لاہور: وزیراعظم عمران خان نے بھارتی سکھ یاتریوں کے لیے خصوصی راہداری کرتار پور کوریڈور کا سنگ بنیاد رکھ دیا، اس موقع پر پروقار تقریب منعقد ہوئی جس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی شرکت کی۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ بھارت کی معروف شخصیت نوجوت سنگھ سدھو، بھارتی وزیر ہرسمرت کور اور ایچ ایس پوری سمیت بھارت کے سرکاری وفد نے بھی تقریب میں شرکت کی۔
کرتارپور کوریڈور فیز 1 میں ساڑھے 4 کلومیٹر سڑک تعمیر کی جائے گی اور بارڈر ٹرمینل کمپلیکس بھی بنایا جائے گا جب کہ دریائے راوی پر 8 سو میٹر طویل پل اور پارکنگ ایریا بھی بنے گا۔ دوسرے فیز میں ہوٹل اور گردوارہ کرتار صاحب کی توسیع کی جائے گی۔ ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل کا کہنا ہے کہ کرتارپور بارڈر کھلنے سے بھارتی سکھ یاتری بغیر ویزا پاکستان آئیں گے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ انسان چاند پر پہنچ چکا ہے لیکن پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر کا مسئلہ حل کیوں نہیں ہوتا؟ بھارت دوستی و امن کے لیے ایک قدم بڑھائے تو پاکستان دو قدم بڑھائے گا، ان کا کہنا تھا کہ ماضی کی زنجیریں توڑے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتے، پاکستان اور بھارت ایٹمی طاقتیں ہیں جن کے درمیان جنگ کا سوچنا بھی پاگل پن ہے۔ وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ سکھ یاتریوں کے چہروں پر خوشی دیکھ کر بہت اچھا لگا۔ ان کے چہروں پر ویسی ہی خوشی دیکھی جو ایک مسلمان کے چہرے پر مدینے پہنچ کر ہوتی ہے۔
اس موقع پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پاک بھارت تمام تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کرتارپورراہداری کھولنے کا پوری دنیا نے خیر مقدم کیا، اسلام مذہبی رواداری کا درس دیتا ہے، بھارتی سکھ زائرین کا فاصلہ تین سے چار کلومیٹر رہ جائے گا۔
نوجوت سنگھ سدھو نے وزیراعظم عمران خان کا شکریہ ادا کیا، اور کہا کہ خون خرابہ بند ہونا چاہیے اور امن آنا چاہیے، پاک بھارت حکومتیں احساس کریں اور آگے بڑھیں، پاکستان نے ہماری جھولیاں بھر دی ہیں، سوچ کو بدلنا ہوگا جب کہ مذہب کو سیاست اور دہشت کی نظر سے نہیں دیکھنا چاہیے۔
بھارتی وزیر ہرسمرت کور نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آج دوریاں ختم ہورہی ہیں، جیسے بابا گرونانک نے سب کو جوڑا ویسے کرتار پور راہداری بھی سب کو جوڑے گی، گرونانک کا بلاوا آیا تو آج آپ کی دھرتی پر آئی ہوں، راہداری سے دونوں ممالک میں محبت بڑھے گی۔
کرتار پور بارڈر کی افتتاحی تقریب سے قبل دربار کی تزئین و آرائش کی گئی۔ پنڈال کو خوبصورتی سے سجایا گیا جہاں انتظامیہ نے 4 ہزار کرسیاں لگائی گئیں۔ بابا گرو نانک کی آخری آرام گاہ پر ما تھا ٹیکنے کے لئے بڑی تعداد میں سکھ برادری بھی موجود تھے جن کی آؤ بھگت کے لئے لنگر خانہ کھولا گیا اور دربار کے منتظمین و سکھ یاتریوں نے اس پاکستانی اقدام پر خوشی کا اظہار کیا۔ پاکستان پہنچنے کے بعد سدھو کا کہنا تھا کہ پاکستان نے یہ سرحد کھولنے کا فیصلہ کرکے دونوں ملکوں کےعوام کو ایک دوسرے کے قریب لانے کے لیے اہم قدم اٹھایا ہے۔
Comments are closed.