چین سے قرض نہیں سرمایہ کاری لائیں گے، عمران خان

لاہور: وزیراعظم عمران خان نے کا کہنا ہے کہ وہ سعودی عرب کے بعد چین جا رہے ہیں جہاں سے قرضہ نہیں سرمایہ کاری لائیں گے۔

وزیراعظم عمران خان سے پنجاب کابینہ میں شامل اراکین اور ایم پی ایز نے لاہور میں ملاقات کی جس میں صوبے میں جاری مختلف ترقیاتی منصوبوں کی پیشرفت سے آگاہ کیا گیا۔

وزیراعظم عمران خان کا اس موقع پر کہنا تھا کہ وہ ملک میں قرض نہیں سرمایہ کاروں کو لانے کی کوشش کر رہے ہیں، انہوں نے امید ظاہر کی کہ انشاء اللہ جلد معاشی حالات بہتر ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ چین پاکستان کا اہم ترین دوست ہے، اپنے دورے میں ٹیکنالوجی کے حصول پر زور دیا جائے گا۔چین سے قرضہ نہیں سرمایہ کاری لے کر آئیں گے۔

وزیراعظم نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی جانب سے صوبے میں شروع کیے گئے سائبان کے نام مسافر خانوں کے منصوبے، تجاوزات اور قبضہ مافیا کے خلاف حکومت پنجاب کے آپریشن کی تعریف کی اور کہا کہ آپریشن میں غریب لوگوں کو تنگ نہ کیا جائے اور بڑے لوگوں پر ہاتھ ڈالا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف حکومت کی جنگ بڑے بڑے ما فیا کے خلاف ہے، ہر فیصلہ میرٹ پر کرنا ہے اور ساری توجہ عام آدمی کی زندگی میں بہتری لانے پر ہونی چاہیے۔

عمران خان نے کہا کہ حکومت کو سب سے بڑا مسئلہ مالی خسارہ تھا جو ورثے میں ملا، پوری کوشش کی آئی ایم ایف کے پاس سب سے آخر میں جائیں، اس سے پہلے دوست ممالک سے رجوع کیا۔ انہوں نے بتایا کہ  سعودی عرب نے پاکستان کو بغیر کسی شرط کے امداد دی۔ان کا کہنا تھا کہ دنیا کو پتہ ہے پاکستان اس خطے کا سب سے اہم ملک ہے۔

عمران خان نے کہا کہ اب سارے وزراء کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا اور جو وزیر کام نہیں کرے گا اس کو تبدیل کر دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسان کے لیے ٹیوب ویل کی بجلی کے نرخ کم کر دیے، بجلی کے ترسیلی نظام میں بہتری لا رہے ہیں اور بجلی چوروں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔

عمران خان نے کہا کہ پاکستان سٹیزین پورٹل کا آغاز ہو چکا ہے اور اب عوام ہمیں ذمہ دار ٹھہرا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کرپشن پر اب چیک ہو گا اس لیے سب کو زیادہ محنت سے کام کرنا ہو گا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان اب بدل چکا ہے اور تحریک انصاف نے ملک سے ٹو پارٹیز کلچر کو ختم کر دیا ہے۔ تحریک انصاف کی جدوجہد سے اب قوم با شعور ہو چکی ہے، اپوزیشن کے شورشرابے سے بالکل نہ گھبرائیں اور نا ہی بلیک میل ہوں۔

وزیراعظم نے کا کہنا تھا اپوزیشن کے پاس حکومت مخالف احتجاج کے لیے کوئی اخلاقی جوازموجود نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ جس آدمی پر خود کرپشن کے کیس ہوں وہ کیسے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین بن سکتا ہے۔ پاکستان اب مشکل ترین دور سے نکل چکا ہے، انشاء اللہ اب بہتری آئے گی۔

Comments are closed.