چینی بحران کے ذمہ داروں کیخلاف مقدمات نیب اور ایف آئی اے کو بھجوائے جانے کا امکان

وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس میں چینی بحران کے ملزمان کیخلاف کارروائی کی حتمی منظوری دی جائے گی

اسلام آباد: ملک میں چینی بحران کے ذمہ داروں کے خلاف گھیرا تنگ ہونے لگا، تحریک انصاف حکومت نے چینی انکوائری کمیشن کی رپورٹ میں نامزد ملزمان کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کر لیا۔

وزیراعظم عمران خان نے اعلیٰ سطح کا اجلاس اتوار کو اسلام آباد میں طلب کر لیا ہے، جس میں‏ شوگر انکوائری کمیشن کی رپورٹ میں ذمہ دار قرار دیے جانے والوں کے خلاف کارروائی کی حتمی منظوری دی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر چینی بحران کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کے لیے سفارشات پیش کریں گے، ذمہ دار افراد کے خلاف فوجداری مقدمات نیب اور ایف آئی اے کو بھجوائے جائیں گے۔

واضح رہے کہ چینی انکوائری کمیشن کی پورٹ میں 9 بڑے گروپوں کی ملز کی آڈٹ کی تفصیلات شامل تھی، مبینہ طور پر پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما جہانگیر خان ترین، شریف خاندان، چوہدری برادران کو چینی بحران کا ذمہ دار قرار دیا گیا تھا، جب کہ پنجاب اور سندھ کی حکومتوں کو بھی فراڈ اور ہیرا پھیری کا مرتکب قرار دیا گیا تھا۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ رپورٹ کے مطابق چینی سبسڈی کی مد میں سب سے زیادہ فائدہ لینے والے اور رپورٹ میں نامزد پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین آج کل برطانیہ میں ہیں، ان کے برطانیہ جانے کے حوالے سے پہلے ہی قیاس آرائیاں جاری ہیں، جس کی گزشتہ روز انہوں نے وضاحت بھی کی تھی۔

جہانگیر خان ترین نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر جاری اپنے ایک پیغام میں کہا تھا کہ وہ معمول کے طبی معائنہ کے لئے برطانیہ آئے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ قیاس آرائیاں کرنے والے پریشاں نہ ہوں، جلد وطن واپس آؤں گا۔

Comments are closed.