امریکی خاتون سنتھیا رچی کیخلاف اندراج مقدمہ کی درخواست پر فیصلہ 15 جون کو ہوگا

ایف آئی اے اور پی ٹی اے نے امریکی خاتون بلاگر کیخلاف مقدمہ درج کرنے کی مخالفت کردی

اسلام آباد: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اور پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے شہید بینظیر بھٹو پرالزامات عائد کرنے والی امریکی خاتون سنتھیا رچی کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست کی مخالفت کر دی ہے۔

ایڈیشنل سیشن جج محمد جہانگیر اعوان نے بےنظیر بھٹو پر الزامات لگانے والی امریکی شہری سنتھیا ڈی رچی کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے جو 15 جون کو سنایا جائے گا۔ عدالتی ریمارکس میں کہا گیا کہ بےنظیر بھٹو کے ورثاء موجود ہیں وہ خود درخواست کیوں نہیں دیتے؟

درخواست گزار کے وکیل نے سینتھیا ڈی رچی کا متنازعہ ٹویٹ عدالت میں میں پڑھ کر سنایا اور کہا کہ بے نظیر بھٹو کے خلاف متنازعہ ٹویٹ سے پیپلز پارٹی کا ہر کارکن متاثرہ فریق ہے ریاست کے پاس نازیبا ٹویٹ کرنے والی خاتون کے خلاف کارروائی کرنے کا اختیار ہے۔

درخواست گزار شکیل عباسی کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ اگر کوئی بھی جرم ہوتا ہے تو ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ کارروائی کرے، قائداعظم یا علامہ اقبال کی شان میں کوئی گستاخی کرتا ہے تو اس کے خلاف کارروائی کون کرے گا۔

امریکی شہری سینتھیا ڈی رچی کے وکیل نے کہا کہ 2011 میں صدر ہاؤس میں اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور رحمان ملک نے سینتھیا رچی کے ساتھ جنسی زیادتی کی، اب کہا جا رہا ہے کہ 9 سال تک خاتون خاموش کیوں رہیں، سینتھیا رچی چونکہ غیرملکی تھی تو انہوں نے 2011 میں واشنگٹن ڈی سی میں درخواست دی تھی۔

کیا کوئی ریکارڈ ہے کہ سنتھیا رچی نے ٹویٹ کرکے بے نظیر بھٹو پر الزامات لگائے، کیا کسی متعلقہ ادارے سے اس کی تصدیق کرائی گئی؟ وکیل صفائی کا کہنا تھا کہ کوئی خاتون ملک کے وزیراعظم کے خلاف کھڑی نہیں ہو سکتی؟ ہر کوئی جانتا ہے کہ سینتھیا رچی بلاگر ہیں اور وہ گیارہ سال سے پاکستان کا اچھا امیج پیش کر رہی ہیں۔

ایف آئی اے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر نے عدالت کو بتایا کہ ایف آئی آر دینے سے پہلے ایف آئی اے انکوائری کرتا ہے ہماری استدعا ہے کہ درخواست گزار متاثرہ فریق نہیں اندراج مقدمہ کی درخواست خارج کی جائے، پی ٹی اے نے بھی امریکی خاتون کیخلاف مقدمہ درج نہ کرنے کی استدعا کی جس کے بعد ایڈیشنل سیشن جج جہانگیر اعوان نے درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا جو 15 جون کو سنایا جائے گا۔

Comments are closed.