اسلام آباد: جج ارشد ملک ویڈیو اسکینڈل کیس کے دوران چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ کیس کے کئی پہلو ہیں۔ عدلیہ سے ازخود نوٹس کا مطالبہ درست نہیں کیونکہ لوگوں کی مرضی پر ایسا نہیں ہوتا۔ کمیشن بنانے کا اختیار تو حکومت کے پاس بھی ہے۔ لاہور ہائیکورٹ کے ماتحت جانے پر ہی متعلقہ جج کیخلاف کاروائی ہو سکتی ہے۔
چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیوکیس کی سماعت کی، درخواست گزاراشتیاق مرزا کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے ازخود نوٹس اور تحقیقاتی کمیشن بنانے کی استدعا کی چیف جسٹس نے کہاکہ آزاد لوگ کسی کے کہنے پر نہیں بلکہ خود کام کرتے ہیں،کسی کی مطالبے پر لیا گیا نوٹس ازخود نوٹس نہیں ہوتا عدالت مطالبات پرنہیں چلتی۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ذمہ دارلوگوں کوعمومی بیانات سے اجتناب کرنا چائیے یہ کہنا درست نہیں سب وکیل ،جج ،اورسیاست دان برے ہیں، وکیل کی جانب سے معاملے پر کمیشن بنانے کی استدعا پر چیف جسٹس نے کہاکہ نوازشریف کی اپیل ہائی کورٹ میں زیرالتوا ہے،کمیشن بننے پر اس کی رائے ثبوت نہیں ہوگی کمیشن کی رپورٹ اپیل پر اثراندازہو سکتی ہے، ہائیکورٹ کواپنا کام کرنے دیں۔
سہیل اخترکی درخواست پردلائل دیتے ہوئے وکیل اکرام چوہدری نے پناما کیس کی مثال دی اور جے آئی ٹی بنانے کی استدعا کی۔ جس پر چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ اس میں کوئی شک نہیں جج کی باتیں انتہائی غیرمعمولی ہیں، وکیل نے جج کو کرسی ماری اور ایک جج نے وکیل کو پیپرویٹ مارا یہ بھی غیرمعمولی معاملہ ہے۔
ایڈووکیٹ طارق اسد نے دلائل میں جج کی نقل و حرکت پرنظر رکھنے کا نقطہ اٹھاتے ہوئے اداروں کو عدالتی معاملات میں مداخلت سے روکنے کا معاملہ اٹھایا، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ایک طرف ادارے کی مداخلت اور دوسری جانب جج پر نظر نہ رکھنے کا موقف پیش کررہے ہیں۔ سپریم کورٹ نے درخواست گزاروں کے دلائل مکمل ہونے پر اٹارنی جنرل کو آئندہ سماعت پر معاونت کے لیے نوٹس جاری کر دیا، مقدمے کی مزید سماعت 23 جولائی تک ملتوی کردی گئی۔
Comments are closed.