اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سابق وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز کے پارٹی عہدہ کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے جو 27 اگست کو سنایا جائے گا۔
چیف الیکشن کمشنرسردار رضا کی سربراہی میں تین رکنی کمیشن نے مریم نواز کے پارٹی عہدے کیخلاف درخواست پر سماعت کی، فریقین کے وکلاء نے درخواست کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے پردلائل دیئے۔
مسلم لیگ ن کے وکیل نے کہا کہ ملیکہ بخاری کی درخواست ناقابل سماعت ہے،الیکشن کمیشن کا کام ملکی انتخابات کرانا ہے پارٹی الیکشن نہیں، صرف سرکاری افسران کےسیاسی جماعت میں شامل ہونے اورعہدہ لینے پرقدغن ہے، مریم نواز کو عہدہ پارٹی الیکشن کے نتیجہ میں نہیں ملا، ان کے عہدے سے درخواست گزار کے حقوق بھی متاثر نہیں ہوئے۔
قانون کے مطابق صرف پارٹی الیکشن چیلنج ہو سکتا ہے، نامزدگیاں چیلنج نہیں کی جا سکتیں، مریم نواز کی نامزدگی قانون کے مطابق کی گئی ہے،
اس پر الیکشن کمیشن اراکین کا کہنا تھا کہ مریم نواز کی نامزدگی کس قانون کے تحت ہوئی اس کا حوالہ بھی دیں، آپ تسلیم کر رہے ہیں کہ مریم نواز کی نامزدگی ہوچکی ہے، پہلے آپ کہتے تھے تعیناتی ہوئی ہے تو درخواست گزار نوٹی فکیشن دے۔ ن لیگ کے وکیل نے کہا کہ مریم نواز کی نامزدگی پارٹی آئین کے تحت ہوئی جو الیکشن کمیشن سے منظور شدہ ہے۔
ملیکہ بخاری کے وکیل حسن مان نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نااہلی کے بعد نوازشریف کا پارٹی عہدہ سپریم کورٹ میں چیلنج ہوا، عدالت نے الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 203 کی تشریح کی، اور نوازشریف کو پارٹی عہدے کیلئے نااہل قرار دیا۔عدالت عظمیٰ نے پارٹی عہدیدار کیلئے بھی آرٹیکل 62,63 پر پورا اترنے کی اہلیت مقرر کی۔ اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے حسن مان نے کہا کہ مریم نواز سلیکٹڈ ہیں یا منتخب وہ پارٹی کا اندرونی معاملہ ہے، پارٹی عہدیدار کیلئے اہلیت مقرر ہے وہ سلیکٹڈ ہو یا منتخب اس سے فرق نہیں پڑتا۔
حسن مان کا کہنا تھا کہ ن لیگ نے تاحال مریم کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن نہیں جمع کرایا، سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ان کی تعیناتی سے آگاہ کیا گیا۔ جس پر چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ یہ ٹویٹر آخرہوتا کیا ہے؟کیا ٹویٹر قابل قبول شواہد ہے؟سوشل میڈیاکی قانونی حیثیت کیاہے؟واٹس ایپ اور ایس ایم ایس تو قابل قبول شہادت ہے، ٹوئٹر کے حوالے سے باضابطہ قانون ہے تو دکھائیں۔ درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ اب تو سوشل میڈیا پر طلاق بھی ہو جاتی ہے۔
دوران سماعت رکن الیکشن کمیشن ارشاد قیصر نے کہا کہ مریم نواز کی سزا پر عمل درآمد معطل ہوا ہے سزا معطل نہیں ہوئی، چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیئے کہ سزا معطل کرنے سے بہتر ہے عدالتیں بری کر دیا کریں، یہ کونسا قانون ہے کہ اپیل میں سزا ہی معطل کر دی جائے۔
الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ قرار دے چکی سزا پرعملدرآمد معطل ہوسکتا سزا معطل نہیں ہوسکتی، ہائی کورٹ میں زیر التوا اپیل پر ابھی فیصلہ کیسے دے سکتے ہیں؟ ہائی کورٹ نے مریم نواز کو بری کر دیا تو الیکشن کمیشن میں درخواست گزار کا کیس ختم ہوجائے گا۔
ن لیگ کے وکیل جہانگیر جدون نے موقف اپنایا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ پارٹی سربراہ کی حد تک ہے، سزا تو ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر چالان ہونا بھی ہے، کیا جس کا چالان ہوا ہو وہ کسی پارٹی کا ممبر نہیں بن سکتا؟ سزا یافتہ شخص اگر پارٹی کارکن بن سکتا ہے تو عہدہ بھی رکھ سکتا ہے۔ مریم نواز آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہل نہیں ہوئیں۔17 میں سے 16 نائب صدور کی نامزدگی چیلنج نہیں کی گئی۔ الیکشن کمیشن کے رکن الطاف قریشی نے استفسار کیا کہ کیا آپ کے باقی نائب صدور بھی سزا یافتہ ہیں؟ صرف سزا یافتہ نائب صدر کی نامزدگی چیلنج کی گئی ہے۔
ن لیگ کے وکیل نے کہا کہ جیل میں موجود شخص بھی پارٹی عہدہ رکھ سکتا ہے،نوازشریف بالواسطہ طور پر جیل سے پارٹی امور چلارہے ہیں،نوازشریف نے جسے چیئرمین سینیٹ نامزد کیا اسی پر سب کا اتفاق ہوا، یہ جتنے بھی زور لگا لیں فیصلہ سازی کا حق نہیں چھین سکتے،کسی کے بنیادی حقوق کو سلب نہیں کیا جا سکتا۔پارٹی سربراہ کے پاس طاقت ہوتی ہے، پارٹی سربراہ ارکان اسمبلی کے ٹکٹ کا فیصلہ کرتا ہے، مریم نواز کے پاس پارٹی سربراہ والے اختیارات نہیں۔
مریم نواز کے وکیل بیرسٹر ظفر اللہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کا مریم نواز پر اطلاق نہیں ہوتا، سپریم کورٹ نے قرار دیا وفاقی حکومت کا مطلب کابینہ ہے وزیراعظم نہیں، اگر ایگزیکٹو کا کام کابینہ کے بجائے کمیٹی نہیں کرسکتی تو عدالتی بنچ کیسے بن سکتے؟ انہوں نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کے رولز میں بنچ بنانے کا ذکر موجود ہے، سپریم کورٹ کے رولز میں بنچز بنانے کا کوئی ذکر نہیں۔
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا مطلب فل کورٹ ہے کوئی دوسرا بنچ عدالت نہیں ہوسکتا، الیکشن کمیشن عدالت ہے نا ایگزیکٹو باڈی،کمیشن آئینی ادارہ ہے، جو سپریم کورٹ کے کسی فیصلے کا پابند نہیں۔ چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے تو الیکشن کمیشن کو قانون کالعدم قرار دینے کا اختیار بھی دیا ہے۔
بیرسٹر ظفر اللہ نے کہا کہ کمیشن یہ نہ کہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کا پابند ہے، کمیشن اپنے طور پر قانون کی تشریح کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر الیکشن کمیشن نے مریم نواز کے پارٹی عہدہ کیخلاف فیصلہ محفوظ کر لیا جو 27 اگست کو سنائے گا۔
Comments are closed.