سی پیک کیخلاف سازش میں امریکا ملوث تھا یا نہیں یہ کہنا قبل از وقت ہے، اسد عمر
پاکستانی ٹیکس گزاروں نے 74 ارب ڈالر غیر ملکی قرضہ ادا کرنا ہے، وفاقی وزیر منصوبہ بندی
کراچی: وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کا کہنا ہے کہ سی پیک کے خلاف بڑی سازش ہوئی، امریکی حکومت اس میں شامل تھی یا نہیں یہ کہنا قبل از وقت ہے، اسد عمر کہتے ہیں پاکستانی ٹیکس گزاروں نے 74ارب ڈالر غیرملکی قرضہ ادا کرنا ہے۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا کہ اخبارات میں امریکی نائب سیکرٹری خارجہ ایلس ویلز کی جانب سے سی پیک منصوبے پر خدشات ظاہر کیے، ان کا سی پیک سے متعلق تجزیہ درست نہیں ہے، پاکستان پہلے ہی اپنا مؤقف دے چکا ہے کہ سی پیک امداد نہیں بلکہ سرمایہ کاری ہے، امریکی حکومت شامل تھی یا نہیں یہ کہنا قبل از وقت ہے لیکن اتنا ضرور ہے کہ سی پیک کے خلاف مہم چلائی گئی۔
اسد عمر نے کہا کہ پاکستان کے بیرونی قرضے کی وجہ سے معیشت اور معاشی ترقی متاثر ہو رہی ہے، پاکستانی ٹیکس گزاروں نے74 ارب ڈالر غیر ملکی قرضہ ادا کرنا ہے، خسارے کو پورا کرنے کے لیے قرضے پر قرضہ لینا پڑا، تجارتی خسارہ خطرناک حد تک بڑھ گیا تھا تو چین نے مشکل وقت میں قرض دیا، چین سے 18 ارب ڈالر لیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سی پیک کے تحت پاکستان پر 4.9 ارب ڈالر قرض ہے، معیشت پر اس بوجھ کا تعلق سی پیک سے نہیں ہے، گردشی قرضے ہمارے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے، 2 سے 3 سال میں تجارتی قرضوں کی شرح میں واضح کمی آجائے گی۔
اسد عمر کا کہنا تھا کہ سی پیک منصوبے سے چینی کمپنیوں کو کاروبار اور پاکستان کو انفراسٹرکچر اور سرمایہ کاری ملی،خصوصی اکنامک زون سے لاکھوں نوکریاں پیدا ہوں گی، سی پیک کے اندر زراعت پر بھی کام کیا جارہا ہے، اس کی وجہ سے دیگرمنصوبوں کو زیادہ تیزی سے مکمل کر سکیں گے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ چین بہت تیزی سے ٹیکنالوجی کی دنیا میں آگے بڑھ رہا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ دنیا کہ ہر ملک سےسرمایہ کاری آئے، ہم کسی اور کش مکش کا حصہ نہیں بننا چاہتے، ہم نے تو سی پیک میں تھرڈ پارٹی انویسٹمنٹ کی بات کی جس پر چین متفق ہوا، ہم پورے خطے میں امن چاہتے ہیں، سی پیک کے اصل ثمرات بھی تب ملیں گے جب پورے خطےمیں امن ہوگا۔
Comments are closed.