لاہور: ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والی انسانی حقوق کی کارکن جلیلہ حیدر کو ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے حراست میں لیا گیا
جلیلہ حیدر برطانیہ میں ایک یونیورسٹی میں منعقدہ ورکشاپ میں شرکت کے لئے جانا چاہتی تھیں، انہوں نے صبح 6 بج کر 40 منٹ کی پرواز سے لاہور سے روانہ ہونا تھا۔ تاہم امیگریشن حکام نے انہیں بیرون ملک روانگی سے روکتے ہوئے حراست میں لے لیا۔
وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے حکام کا کہنا ہے کہ ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی وجہ سے جلیلہ حیدر کے بیرون ملک سفر پر پابندی ہے، نومبر 2019 میں اُن کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل کیا گیا۔ جلیلہ حیدر کا کہنا ہے کہ انہیں ان کا نام ای سی ایل میں شامل ہونے سے متعلق کبھی نہیں بتایا گیا۔
جلیلہ حیدر کو حراست میں لیے جانے کی خبر سوشل میڈیا پر آتے ہی کئی سماجی رہنما اور کارکنان علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچ گئے جہاں پر انہوں نے احتجاج ریکارڈ کرایا،جس کے بعد جلیلہ حیدر کو رہا کر دیا گیا ہے
واضح رہے کہ جلیلہ حیدر ہزارہ کمیونٹی کی پہلی خاتون وکیل ہیں، برطانوی نشریاتی ادارے ‘بی بی سی’ نے جلیلہ حیدر کو 100 بااثر خواتین کی فہرست میں شامل کیا تھا، وہ خواتین کے حقوق کے تحفظ اور کم آمدن والی خواتین کو مفت قانونی معاونت فراہم کرنے کیلئے مشہور ہیں۔
Comments are closed.