وزیراعظم عمران خان نے کورونا کی صورتحال پر پی ٹی وی پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ لاک ڈاؤن کھولنےکےفیصلےپرطبی عملے کی فکرتھی کہ اسپتالوں پردباؤبڑھےگا، حکومت کو طبی عملےکی پریشانیوں کاپوری طرح احساس ہےاگر کوئی یقین دلاتا کہ 2 یا 3 ماہ کے لاک ڈاؤن سے کورونا وائرس ختم ہوجائے گا تو ہم ایسے کرلیتے، لیکن لاک ڈاؤن سے کورونا وائرس ختم نہیں ہوگا
ایک سال تک بھی کوئی ویکسین آنے کا امکان نہیں، لاک ڈاؤن جب بھی کھولیں گے کیسز میں دوبارہ اضافہ ہوگا، اب اس وائرس کے ساتھ رہنا اور ایک سال گزارا کرنا ہوگا، مسلسل لاک ڈاؤن کے متحمل نہیں ہوسکتے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم نے احساس پروگرام سمیت وہ کام بھی کیے جو ترقی یافتہ ممالک بھی نہ کرسکے، لیکن کب تک کریں گے، عوام کو روزگار نہ دیا تو کورونا سے زیادہ بھوک سے مرنے کا خطرہ ہے، دن میں 10 دفعہ سوچتا ہوں کہ سفید پوش لوگ کیسے گزارا کررہے ہوں گے، باقی ممالک اپنے عوام کو کورونا سے بچارہے ہیں، ہم تو اپنے لوگوں کو بھوک سے مرنے سے بچارہے ہیں، لاک ڈاؤن کھولنا ہماری مجبوری ہے
عمران خان نے کہا کہ کورونا کی وجہ سے ملک میں پولیو اور بچوں کی ویکسینیشن سمیت دیگر بیماریاں ہیں جو نظرانداز ہورہی ہیں، کورونا کو دیکھ رہے ہیں لیکن باقی ملک بھی تو سنبھالنا ہے، کورونا سے 52 ہزار 324 کیسز اور 1324 اموات ہونے کا خدشہ تھا لیکن اندازے سے کم 35 ہزار 700 کیسز اور 770 اموات ہوئیں۔
انہوں نے کہا کہ جو کاروبار کھولیں گے اس کے مالک کو ایس او پیز پر عمل کرنا ہوگا، جن جگہوں پر کیسز بڑھے انہیں بند کردیا جائے گا، کارخانے دار اور دکاندار ایس او پیز پر عمل کریں اور ذمہ داری لیں
وزیراعظم نے کہا کہ ہم تمام صوبوں کے اتفاق رائے سے فیصلہ کرتے ہیں اور کوئی ایسا فیصلہ نہیں کرتے جس میں ایک صوبہ بھی نہ مان رہا ہوں، اس لیے پبلک ٹرانسپورٹ کھولنے کا فیصلہ نہیں ہوسکا، کیونکہ ایک دو صوبوں کو اس سے کورونا پھیلنے کا خدشہ ہے، میں سب سے درخواست کرتا ہوں کہ پبلک ٹرانسپورٹ کھول دیں، کیونکہ ٹرانسپورٹ بند کرکے غریب کو نقصان پہنچا رہے ہیں، امریکا اور یورپ جہاں ایک دن میں 800 لوگ مررہے ہیں، انہوں نے بند نہ کی تو ہم نے کیوں بند کرکے رکھ دی، دوبارہ درخواست کروں گا کہ پبلک ٹرانسپورٹ کھول دیں
عمران خان نے مزید کہا کہ مزدوروں کو روزگار دینے کےلیے تعمیراتی صنعت کو مراعات دی ہیں، وزیراعظم ریلیف فنڈ کو بے روزگار ہونے والوں کے لیے مختص کردیا، پیر سے پیسے ملنے شروع ہوجائیں گے۔
Comments are closed.