اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے کورونا وباء کے باعث تجارتی سرگرمیاں بند کرنے کا حکومتی فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے پورا ہفتہ تجارتی مراکز کھولنے کی اجازت دے دی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کیا کورونا ہفتہ اور اتوار کو نہیں آئے گا، عدالت نے محکمہ صحت کی کارکردگی اور کورونا کیلئے فنڈز کے استعمال پربھی سوالات اٹھا دیئے۔
چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے کورونا از خود نوٹس کیس کی سماعت کی، جس کے بعد جاری مختصر عدالتی حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ پنجاب اور اسلام آباد شاپنگ مالز کھولنے کا ارادہ رکھتے ہیں، سندھ میں شاپنگ مالز بند رکھنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی، اجازت کے بعد صوبے شاپنگ مالز کھولنے میں رکاوٹ پیدا نہ کریں۔
عدالت عظمیٰ نے قرار دیا کہ دو دن کاروبار بند رکھنے کا حکم آئین کے آرٹیکل 4، 18 اور 25 کی خلاف ورزی ہے، پنجاب میں شاپنگ مال فوری طور پر آج ہی سے کھلیں گے، سندھ شاپنگ مال کھولنے کے لیے وزارت صحت سے منظوری لے گا، عدالت توقع کرتی ہے کہ وزارت صحت کاروبار کھولنے میں کوئی غیر ضروری رکاوٹ پیدا نہیں کرے گی۔متعلقہ حکومتیں تمام مارکیٹوں اور شاپنگ مالز میں ایس او پیز پر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
عدالتی حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں کورونا وباء پر وسائل خرچ کرنے سے متعلق اپنا موقف دیں، ملک کے تمام وسائل صرف کورونا وباء کے لئے ہی خرچ نہ کیے جائیں، پاکستان میں کورونا اتنا سنگین نہیں جتنی رقم خرچ کی جا رہی، کورونا سے زیادہ دیگر امراض سے ہر سال اموات ہوتی ہیں، این ڈی ایم اے اربوں روپے کورونا سے متعلق خریداری پرخرچ کر رہا، این ڈی ایم اے حکام کو نئی ہدایات لے کر آگاہ کرنے کا حکم دے دیا۔
قبل ازیں دوران سماعت چیف جسٹس گلزار احمد نے کمشنر کراچی کو شہر قائد میں دکانیں اور مارکیٹس سیل کرنے سے روکتے ہوئے ہدایت کی ہے دکانیں سیل کرنے کے بجائے ایس او پیز پرعمل کرائیں، تاجروں سے بدتمیزی کرنی ہے نہ رشوت لینی ہے، چھوٹے تاجر کورونا کے بجائے بھوک سے ہی نہ مر جائیں۔
چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ ہفتہ اور اتوار کو کاروبار بند کرنے کی منطق بتائی جائے، کیا وبا نے حکومتوں سے وعدہ کر رکھا ہے وہ ہفتے اور اتوار کو نہیں آئے گی، یا حکومتیں ہفتہ، اتوار کو تھک جاتی ہیں؟ کیا ہفتہ اتوار کو سورج مغرب سے نکلتا ہے؟ عید پر بازاروں میں رش ہو جاتا ہے، ہفتہ اور اتوار کو بھی مارکیٹیں بند نہ کرائی جائیں، سرکاری عہدیداران نئے کپڑے نہیں پہننا چاہتے لیکن بہت سے گھرانے صرف عید پر ہی نئے کپڑے پہنتے ہیں۔
چیف جسٹس آف پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ کورونا سے متعلق اربوں خرچ ہو چکے ہیں، این ڈی ایم اے کو 25 ارب تو ملے ہیں صوبوں کو الگ ملے اور احساس پروگرام کے لئے الگ رقم مختص کی گئی ہے۔500 ارب روپے کورونا مریضوں پرخرچ ہوں تو ہرمریض کروڑ پتی ہوجائے گا، کیا 25 ارب کی رقم سے آپ کثیر منزلہ عمارتیں بنا رہے ہیں؟
این ڈی ایم اے کی جانب سے بتایا گیا کہ اسلام آباد میں حاجی کیمپ کو قرنطینہ سینیٹر بنانے پر 5 کروڑ 90 لاکھ روپے خرچ ہوئے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ قرنطینہ مراکز پر اتنا پیسہ کیسے لگ گیا؟ کیا قرنطینہ مراکز کیلئے نئی عمارتیں بنائی جا رہی ہیں؟ یہ سارا پیسہ کہاں جا رہا ہے؟اتنی رقم لگانے کے بعد بھی اگر600 اموات ہو گئی ہیں تو کوششوں کا کیا فائدہ؟
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ تقریباً 200 ارب روپے خرچ کردئیے گئے، ہرآدمی پر 25 لاکھ روپے خرچ ہورہے ہیں، یہ صرف این ڈی ایم اے کا بجٹ ہے باقی صوبوں اور اداروں کو ملا کر 500 ارب بنے گا، یہ پیسہ ایسی جگہ چلا گیا ہے جہاں سے ضرورت مندوں کو نہیں مل سکتا۔ ایک مریض پر لاکھوں روپے خرچ ہونے کا کیا جواز ہے؟ کورونا اس لئے نہیں آیا کہ کوئی پاکستان کا پیسہ اٹھا کرلے جائے۔
اپنے ریمارکس میں چیف جسٹس نے کہا کہ ٹڈی دل کیلئے این ڈی ایم اے نے کیا کیا ہے؟ ٹڈی دل آئندہ سال ملک میں فصلیں نہیں ہونے دے گا، صنعتیں فعال ہوجائیں تو زرعی شعبہ کی اتنی ضرورت نہیں رہے گی،صنعتیں ملک کی ریڑھ کی ہڈی تھیں، اربوں روپے ٹین کی چارپائیوں پرخرچ ہو رہے، کورونا کا علاج صرف کمرے میں بند کرنا ہے، تو کیا ایک شخص کو کمرے میں بند ہونے پر 25 لاکھ خرچ ہوتے ہیں؟
عدالتی استفسار پر وفاقی سیکرٹری صحت نے عدالت کو بتایا کہ پولن سے کم و بیش ایک ہزار لوگ مرتے ہیں، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ابھی ڈینگی آئے گا اور 50 ہزار افراد مر جائیں گے، حالت یہ ہے کہ سرکاری ہسپتال سے کورونا ٹیسٹ مثبت جب کہ اسی بندے کا نجی لیب سے منفی آ جاتا ہے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ عوام حکومت کی غلام نہیں ہے، عوام پر حکومت آئین کے مطابق کرنی ہوتی ہے، پاکستان میں غربت بہت ہے لوگ روزانہ کما کر ہی کھانا کھا سکتے ہیں، کراچی پورٹ پر اربوں روپے کا سامان پڑا ہے جو باہر نہیں آ رہا، لگتا ہے کراچی پورٹ پر پڑا سامان سمندر میں پھینکنا پڑے گا۔ کیا کسی کو معلوم ہے دو ماہ بعد کتنی بے روزگاری ہوگی؟ بند ہونے والی صنعتیں دوبارہ چل نہیں سکیں گی، کیا کروڑوں لوگوں کو روکنے کیلئے گولیاں ماری جائیں گی؟
چیف جسٹس نے محکمہ صحت کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ محکمہ صحت میں کالی بھیڑیں موجود ہیں، ان تمام کالی بھیڑوں کو جانتا ہوں، سب سے تھرڈ کلاس ادویات سرکاری اسپتالوں میں ہوتی ہیں،او پی ڈی میں سو مریض کھڑے ہوتے اور ڈاکٹر چائے پی رہے ہوتے، جسے دل کرتا ہے کورونا کا مریض قرار دے دیا جاتا ہے،تمام سرکاری ہسپتالوں کے ہر کمرے میں کیمرے لگائیں
Comments are closed.