ایشیا کپ ٹی 20 ٹورنامنٹ کا سب سے بڑا مقابلہ آج دبئی میں ہوگا جہاں پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں ایک بار پھر مدِمقابل ہوں گی۔ گروپ اے کے اس میچ کا آغاز پاکستانی وقت کے مطابق شام ساڑھے 7 بجے ہوگا۔ یہ میچ نہ صرف پوائنٹس ٹیبل پر اہمیت رکھتا ہے بلکہ دونوں ملکوں کے شائقین کرکٹ کے لیے ایک تاریخی موقع ہے۔ رواں سال جنگ کے بعد یہ دونوں ٹیموں کا پہلا آمنا سامنا ہوگا۔
حالیہ تاریخ اور ریکارڈ
پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں گزشتہ چھ ماہ میں دوسری بار آمنے سامنے آ رہی ہیں۔ اس سے قبل دونوں کا ٹکراؤ چیمپئنز ٹرافی میں ہوا تھا۔ ایشیا کپ کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو بھارت نے اب تک پاکستان کے خلاف 19 میچوں میں سے 10 جیتے ہیں جبکہ پاکستان نے 6 میں کامیابی حاصل کی ہے۔ پاکستان نے بھارت کو ایشیا کپ میں آخری بار 2022 میں شکست دی تھی۔ بھارت اس ایونٹ کو 8 مرتبہ جیت چکا ہے جبکہ پاکستان صرف 2 بار ایشیا کپ کا فاتح رہا ہے۔
کھلاڑیوں پر نظریں
پاکستانی شائقین کی نظریں فخر زمان، صائم ایوب، سلمان آغا اور حارث پر مرکوز ہیں جبکہ بھارت کے پاس شبمن گل، سوریا کمار یادیو اور فاسٹ بالر جسپریت بمراہ کی شکل میں خطرناک ہتھیار موجود ہیں۔ دونوں ٹیمیں اس وقت بہترین فارم میں ہیں۔ بھارت نے ایشیا کپ میں متحدہ عرب امارات کو 9 وکٹوں سے شکست دی جبکہ پاکستان نے افغانستان اور یو اے ای کو مات دے کر تین ملکی سیریز اپنے نام کی۔
کھلاڑیوں اور شائقین کا جوش
پاکستانی شائقین نے اس میچ سے بڑی امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ٹیم بھارت کو شکست دے گی۔ قومی بلے باز صائم ایوب نے گزشتہ روز دبئی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ٹیم بڑے مقابلے کے لیے پرجوش ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاک بھارت میچ عوام کے لیے ہمیشہ بڑا ہوتا ہے، لیکن ہم ہر میچ کے لیے بھرپور تیاری کرتے ہیں۔ صائم ایوب نے مزید کہا کہ “کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی کھلاڑی کی فارم اچھی نہ ہو لیکن وہ بڑا میچ جتوا کر سب کچھ بدل دیتا ہے، اسی طرح ہر کوئی ایک ایک میچ جتواتا رہے تو بہترین کمبی نیشن بن جائے گا۔” انہوں نے کہا کہ وکٹ خشک ہے اور پہلے بیٹنگ کرنا زیادہ فائدہ مند ہوگا۔
فائنل کی دوڑ میں اہمیت
یہ میچ نہ صرف گروپ اے کے حساب سے اہم ہے بلکہ دونوں ٹیموں کے حوصلے اور ایونٹ کے اگلے مرحلے کی راہوں کا تعین بھی کرے گا۔ شائقین کرکٹ دبئی انٹرنیشنل اسٹیڈیم میں ایک بھرپور، سنسنی خیز اور ہائی وولٹیج ٹاکرے کے منتظر ہیں۔
Comments are closed.