براڈشیٹ تحقیقاتی رپورٹ مکمل: 15 لاکھ ڈالرغلط ادائیگی، ریکارڈ غائب ہونے کا انکشاف

براڈ شیٹ کی تحقیقات کرنے والے کمیشن نے اپنی رپورٹ مکمل کر کے وزیراعظم عمران خان کو پیش کر دی ہے، جس کے مطابق براڈشیٹ کمپنی کو 15 لاکھ ڈالر کی غلط ادائیگی کی گئی، پاکستان میں سرکاری فائلیں اور پاکستانی ہائی کمیشن لندن سے ریکارڈ غائب ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
خیال رہے کہ براڈ شیٹ کیس کی تحقیقات کے لیے 29 جنوری کو کمیشن قائم کیا گیا تھا۔ جس نے چھ ہفتوں کے دوران اپنی تحقیقات کر کے رپورٹ پیش کرنا تھی۔ کمیشن تحقیقات کا باضابطہ آغاز 9 فروری 2021 کو کیا۔ اپوزیشن نے جسٹس ریٹائرڈ عظمت سعید کی سربراہی میں بننے والے کمیشن کو ماننے سے انکار کر دیا تھا

جسٹس ریٹائرڈ عظمت سعید کی جانب سے تیارکردہ تفصیلی رپورٹ وزیراعظم آفس کے جوائنٹ سیکرٹری زاہد مقصود نے وصول کی، ذرائع کے مطابق کمیشن نے مجموعی طورپر26 گواہان کے بیان ریکارڈ کیے جب کہ ایک سابق خاتون لیگل کنسلٹنٹ طلبی کے باوجود کمیشن میں پیش نہیں ہوئیں۔

‏براڈشیٹ انکوائری کمیشن نے سابق صدر آصف زرداری کے خلاف سوئس مقدمات کا سربمہر کیا گیا ریکارڈ کھول کر اس کا جائزہ لینے کی سفارش کی ہے، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قومی احتساب بیورو اپنے سٹور روم میں پڑے سوئس مقدمات کے ریکارڈ کا جائزہ لے کہ اس کا کیا کرنا ہے۔

ذرائع کے مطابق براڈشیٹ کمیشن کو تمام تفصیلات نیب کی دستاویزات سے ملیں، رپورٹ میں مخلتف شخصیات کے بیانات اوردستاویزات کوالگ رکھا گیا ہے تحقیقات میں براڈ شیٹ کمپنی کو 15 لاکھ ڈالر کی غلط ادائیگی کرنے اور اس حوالے سے ریکارڈ غائب کیے جانے کا انکشاف ہواہے، غلط ادائیگی کو صرف بے احتیاطی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اتنی بڑی رقم غلط شخص کو ادا کرنا ریاست پاکستان کے ساتھ دھوکہ ہے۔وزارت خزانہ، وزارت قانون اور اٹارنی جنرل آفس سے فائلیں چوری ہوگئیں، پاکستانی ہائی کمیشن لندن سے بھی ادائیگی کی فائل سے مخصوص حصہ غائب ہوگیا۔

واضح رہے کہ قومی احتساب بیورو نے پرویز مشرف کے دور حکومت میں بیرون ملک چھپائے گئے پاکستانیوں کے اثاثوں کا پتہ چلانے کے لئے برطانوی لیگل فرم براڈ شیٹ ایل ایل سی کی خدمات کے لئے معاہدہ معاہدہ کیا جو 2003 میں ختم کردیا گیا تھا جس پر فرم نے 600 ملین ڈالر ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا تھا۔

Comments are closed.