حکومت کا پی پی قیادت سمیت 172 افراد کےنام ای سی ایل سے فوری نہ نکالنے کا فیصلہ

اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں آصف زرداری، بلاول بھٹو، فریال تالپور اور مراد علی شاہ سمیت  172 افراد کے نام فوری طور پر ای سی ایل سے نہ نکالنے کا فیصلہ کیا ہے، عدالتی احکامات کی روشنی میں کابینہ نے معاملہ ای سی ایل کمیٹی کو بھجوا دیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس اسلام آباد میں ہوا جس میں جعلی اکاؤنٹس کیس میں پیپلز پارٹی کی قیادت سمیت 172 افراد کے نام ای سی ایل میں ڈالے جانے سے متعلق معاملے پر نظرثانی کی گئی۔ سپریم کورٹ نے ان ملزمان کے نام ای سی ایل میں شامل کرنے کے فیصلے پر کابینہ کو نظر ثانی کا حکم دیا تھا۔

تاہم کابینہ نے فیصلہ کیا کہ ملزمان کے نام فوری طور پر ای سی ایل سے نہیں نکالے جائیں، پہلے تمام افراد سے متعلق جے آئی ٹی کی سفارشات کا علیحدہ علیحدہ جائزہ لیا جائے گا، اس کے بعد پھر کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔ کابینہ نے غربت کے خاتمے کے حوالے سے کوآرڈی نیشن کونسل کے قیام، قائداعظم مزارمینجمنٹ بورڈ کی از سرنوشکیل، دبئی ایکسپو کے لئے 50 لاکھ ڈالر گرانٹ اور نرسنگ کونسل کے ارکان کے تقرر کی منظوری دے گی۔

اس کے علاوہ کراچی ٹرانسفارمیشن کے لئے اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی، غیرمعیاری اسٹنٹس، پاکستان اور چین کے درمیان سزا یافتہ قیدیوں کا تبادلہ بھی کابینہ ایجنڈے میں شامل ہے۔ کابینہ نے چین کے ساتھ سزا یافتہ قیدیوں کے تبادلے اور جاپان کے ساتھ دفاعی تعاون بڑھانے سے متعلق معاہدوں کی بھی منظوری دے دی۔

واضح رہے کہ وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد جعلی اکاؤنٹس کیس میں ملوث پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو، شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور فریال تالپور سمیت 172 افراد کے نام ای سی ایل میں ڈالے گئے تھے جس کے بعد سپریم کورٹ نے نام ای سی ایل میں شامل کرنے پر نظر ثانی کا حکم دیا تھا۔

Comments are closed.