حکومت پی اے سی کی سربراہی شہبازشریف کو دینے کیلئے رضامند

اسلام آباد: حکومت نے پبلک اکائونٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ اپوزیشن لیڈر کو دینے کا اعلان کردیا۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے فیصلے سے قومی اسمبلی ایوان کو آگاھ کردیا۔ اپوزیشن نے حکومت کو مبارکباد دیتے ھوئے فیصلے کو مثبت یوٹرن قرار دیا ھے

قومی اسمبلی کی کارروائی کے دوران خطاب کرتے ہوئے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ایوان کے تقدس کی ذمہ داری اپوزیشن اورحکمراں دونوں کی۔۔ دونوں جانب سے رویوں میں نظرثانی اور کشادہ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایوان کے نظام اورقانون سازی کے عمل کوآگے بڑھایا جائے۔۔ نیب مقدمات کا شکارفرد چئرمین پی اے سی نہ بننے کے اصولی موقف پر قائم ہیں تاہم وزیراعظم نے فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ قائد حزب اختلاف شہبازشریف پر چھوڑتے ھیں کہ وہ چیئرمین بنیں یا کسی اور کا نام دیں۔ اپوزیشن راستہ نکالے شہبازشریف کا فیصلہ قبول ھوگا۔ قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے کہا کہ  جمہوریت کی بقا اور ایوان کو بامعنی بنانے کیلئے اپوزیشن تیار ہے کسی ہٹ دھرمی پر نہیں بلکہ اصولی روایت پرکھڑٰی ہے۔۔۔نیب گرفتاری کے باعث چیئرمین پی اے سی تعینات نہ کرنا حکومت کو بھاری پتھرنظر آرہا ہے تو وزیراعظم عمران خان پرہیلی کاپٹر کیس کا سایہ ھے جبکہ وزیردفاع پرویز خٹک بھی مالم جبہ کیس میں ہیں ۔ اس لئے حکومت کی یہ منطق قابل قبول نہیں۔

نیب اور پی ٹی آئی کا چولی دامن کا ساتھ ھے۔ انہوں نے چیلنج کرتے ھوئے کہا کہ اگر نیب نے میرے خلاف کرپشن ثابت کی تو سیاست چھوڑ دوں گا۔  ایاز صادق نے کہا کہ جمہوریت کو بچانے کے لیے بھی اتنا تعاون کرنے والی اپوزیشن کبھی نہیں بنی جتنی اس دور میں بنی۔۔ پی اے سی کے معاملے پر وزیراعظم عمران خان نے خوبصورت یوٹرن لیا ھے۔ اس طرح کے مثبت یوٹرن لینے چاھئیں۔ راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ پی اے سی کی چیئرمین شپ کے حوالے سے حکومت کا فیصلہ خوش آئندہ ھے اس سے جمھوریت اور پارلیمنٹ مضبوط ھوگی۔ وزیردفاع  پرویز خٹک نے کہا کہ مالم جبہ مقدمہ سیاسی بنیادوں پر بنایا گیا اپوزیشن لیڈرنے ذاتیات پربات کی۔ ھم بھی  پرسنل باتیں کرسکتےہیں مگر کرینگے نہیں۔

اگر نیب اور پی ٹی آئی کا چولی دامن کا ساتھ ھوتا تو نیب ھمارے خلاف مقدمات نہ چلاتا ۔ شفقت محمود نے کہا کہ گزشتہ پانچ سال میں کبھی اپوزیشن نے وزیراعظم کے خطاب کے دوران مداخلت نہیں کی۔۔لیکن جب یہ ایوان معرض وجود آیا اس وقت سے وزیراعظم کے خطاب میں ہلڑ بازی کی گئی وہ انتہائی افسوس ناک بھی ہے۔ حکومت اوراپوزیشن اراکین نے جہاں ایوان کا ماحول سازگار رکھنے کی تجاویز کو خوش آئندہ قراردیا وہیں خواجہ سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے تک ایوان سے واک آوٹ کا اعلان کیا اور اپوزیشن ایوان سے اٹھ کر چلی گئی، واک آؤٹ کے بعد پیپلز پارٹی کے آغا رفیع اللہ کورم کی نشاندہی کے لئے ایوان میں آئے اور کورم کی نشاندہی کرنے کی کوشش کی تو سپیکر نے اجلاس کل صبح ساڑھے دس بجے تک ملتوی کردیا۔

Comments are closed.