مقبوضہ جموں و کشمیر سول سوسائٹی نے اگست 2019 کے اقدامات مسترد کردیئے

سرینگر: غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں سول سوسائٹی کے ارکان نے اگست 2019 کے بعد مودی حکومت کے ظالمانہ اقدامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی طرف سے تسلیم شدہ کشمیری عوام کے حق خود ارادیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔
سرینگر میں ایک اجلاس کے بعد مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے سول سوسائٹی کے ارکان نے صحافیوں کو بتایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کی طرف سے فراہم کئے گئے نام نہاد ڈومیسائل سرٹیفکیٹس کی بنیاد پر غیر کشمیریوں کو کبھی مقبوضہ جموں وکشمیر کے شہری تسلیم نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ بی جے پی آر ایس ایس کا گٹھ جوڑ ڈومیسائل قانون میں ترمیم کرکے آگ سے کھیل رہا ہے جس کا مقصد مقبوضہ علاقے میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنا ہے۔ انہوں نے کہاکہ بھارت نے دفعہ370اور 35 اے کو منسوخ کرکے جموں و کشمیر کے لوگوں کی شناخت چھین لی ہے۔

دریں اثناء علاقائی سیاسی جماعتوں نے کم از کم محرم الحرام کے مقدس مہینے میں پابندیاں ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔ نیشنل کانفرنس کے ترجمان نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں محرم کے جلوسوں پر پابندی پر سوال اٹھایا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امرناتھ یاترا اور جنم اشٹمی جیسے ہندو جلوسوں کو حکام کی طرف سے اجازت اور سہولت فراہم کی جاتی ہے۔

پیپلز ڈیموکریٹک فرنٹ کے چیئرمین حکیم محمدیاسین اور کانگریس کے رہنما طارق حمید قرہ نے کشمیری مسلمانوں کے لیے محرم میں اسی طرح کی سہولتوں کا مطالبہ کیاہے جو ہندو یاتریوں کو فراہم کی جاتی ہیں۔ سیاسی جماعتوں نے منی پور میں ہندو اکثریتی برادری کی جانب سے دو مسیحی خواتین کی برہنہ پریڈ کو انتہائی شرمناک اور انسانیت سوز قرار دیا۔

Comments are closed.