جعلی اکاؤنٹس کیس اسلام آباد منتقل، مقدمے کا ریکارڈ غائب

اسلام آباد: جعلی اکاؤنٹس کیس میں نیب کو جھٹکا۔۔۔۔۔۔ احتساب عدالت میں پیش دستاویزات میں سے تین ہزار صفحات غائب پائے گئے، رجسٹرار نے ریفرنس واپس کردیا۔ نیب نے کراچی سے گرفتار کر کے لائے گئے دو ملزمان کا 28 مارچ تک جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا ۔ ایک ملزم کی اہلیہ اور جج میں گھر کے کھانے کے معاملہ پر دلچسپ مکالمہ ہوا ۔

جعلی اکاؤنٹس اورمیگا منی لانڈرنگ کیس اسلام آباد منتقل ہو گیا۔ کیس کی تمام دستاویزات احتساب عدالت میں جمع کرائی گئیں تاہم سکروٹنی میں تین ہزار صفحات غائب ہونے کا انکشاف ہوا۔ رجسٹرار نے ریفرنس نامکمل قرار دے کر نیب کو واپس کر دیا۔ کراچی سے لائے گئے دو ملزمان نجم الزمان اور حسن میمن دس روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کر دیئے گئے۔

ملزم نجم الزمان کی اہلیہ نے خاوند کو گھر کا کھانا پہنچانے کی اجازت طلب کی تو جج محمد بشیر نے کہا آپ زہر ملا کر دیدیں تو کون ذمہ دار ہوگا ؟ اس پر اہلیہ نے جواب دیا اللہ معاف کرے میں اپنے شوہر کو زہر کیوں دوں گی ؟ اس پر فاضل جج نے کہا آپ تو زہر نہیں دیں گی مگر رسک نہیں لیا جا سکتا ، نیب کا کھانا بھی بہت اچھا ہوتا ہے ، بعد میں کئی ملزم تو یہ کہتے ہیں کہ نیب کے پاس ہی رہنے دیں ۔

جج احتساب عدالت نے ماضی کا ایک واقعہ سنایا کہ ایک ملزم نے اپنے بیٹے سے کہا تم نیب کو ایک کروڑ روپے کی ادائیگی کر دو تو مجھے رہائی مل سکتی ہے ، بیٹے نے یہ کہہ کر رقم دینے سے انکار کردیا کہ ابا جی آپ کی زندگی رہ ہی کتنی گئی ہے۔

Comments are closed.