اسلام آباد: جعلی اکاؤنٹس کیس میں آصف علی زرداری اور فریال تالپور کے بعد بلاول بھٹو اور سندھ حکومت نے بھی سپریم کورٹ کا 7 جنوری کا فیصلہ چیلنج کر دیا۔ نیب نے پہلی پیشرفت رپورٹ عدالت عظمیٰ میں جمع کرا دی،کمبائنڈ انوسٹی گیشن ٹیمیں کراچی بھجوا دیں۔ 1.32ارب روپےکی کِک بیکس کی جعلی اکاؤنٹس میں منتقلی پر سرکاری افسروں سےبھی پوچھ گچھ ہو گی۔
چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے نظرثانی اپیل میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ جےآئی ٹی نےمجھے کبھی بلایا ہی نہیں، بغیر سنے میرے خلاف آبزرویشن دی گئیں، عدالت نے زبانی حکمنامے میں میرا نام جے آئی ٹی رپورٹ سے ہٹانے کا حکم دیا، تاہم تحریری حکم نامے میں یہ بات نہیں لکھی گئی ، تحریری اور زبانی حکم ایک دوسرے سے مختلف نہیں ہو سکتے ۔ سندھ حکومت نے بلاول بھٹو اور مراد علی شاہ کا نام جے آئی ٹی رپورٹ سے نکالنے ، کیس کی مزید انکوائری کی واپس کراچی منتقلی اور ایڈووکیٹ جنرل کے متعلق ایک آبزرویشن حذف کرنےکی استدعا کی ہے ۔
دوسری جانب نیب نےجعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں سربمہر پیشرفت رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی ہے، رپورٹ ڈی جی نیب راولپنڈی عرفان منگی کی تیارکردہ ہے۔ نیب نےچارکمبائنڈ انوسٹی گیشن ٹیمیں کراچی بھجوا دیں۔ تمام ٹیموں کی سربراہی ڈی جی نیب راولپنڈی عرفان نعیم منگی کررہے ہیں جبکہ ارکان میں نیب کراچی سے محمد یونس خان اورمحمدگل آفریدی، راولپنڈی سےمحبوب عالم اور محسن علی شامل ہیں ۔ نیب ٹیمیں ایف بی آر ، ایکسائز ، سٹیٹ بنک اور انورمجید کی تمام ملوں سے ریکارڈ جمع کریں گی ۔
Comments are closed.