اسلام آباد: پاکستان نے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کے حریت رہنما میرواعظ عمر فاروق سے رابطے پر بھارتی اعتراض مسترد کر دیا۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے، بھارت کی جانب سے ہائی کمشنر کو طلب کیاجانا، الیکشن کی سیاست پر اثراندازہونے کی کوشش ہے۔ طالبان اور افغان حکومت کے براہ راست مذاکرات ،افغانستان کا اندرونی معاملہ ہے۔
ڈاکٹر فیصل کا کہنا تھا کہ پاکستانی ہائی کمشنر کو بھارتی سیکریٹری خارجہ نے طلب کیا، ہمار پریس ریلیزمیں بھارتی بے بنیاد اعتراضات کو مسترد کیا گیا ہے،،،پاکستانی سیکریٹری خارجہ نے آج صبح بھارتی ہائی کمشنر کو طلب کیا ، اور پاکستان نے اپنے ہائی کمشنر کو طلب کرنے اور کشمیریوں سے سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کیلئے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا،کشمیر سے متعلق یہ پاکستان کی مستقل پبلک پالیسی ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہاکہ امید ہے طالبان اور افغان حکومت مسائل مل کرحل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ پاکستان افغان امن عمل میں ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان امریکہ اورافغانستان اورامریکہ کی درخواست پر طالبان اور امریکہ کے براہ راست مذاکرات میں مدد کر رہا ہے ، پاکستان یہ کام اچھی نیت اور مشترکہ ذمہ داری کے جذبے کے تحت کر رہا ہے، افغانستان میں ایسے کردار ہیں جن کا مقصد وہاں انتشار سے پورا ہوتا ہے، ایسے کردار ماضی میں امن مذاکرات کو رکوا چکے ہیں،اور موجودہ مذاکرات کو کمزور ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنی سرزمین پر دہشتگردوں کے ٹھکانوں سے متعلق امریکی انٹیلی جنس کے الزامات مسترد کرتاہے۔افغان بارڈر پرداعش کی بڑھتی سرگرمیوں پر پاکستان کو تشویش ہے۔ سعودی ولی عہد کا دورہ پاکستان بڑی اہمیت کا حامل ہے ، تفصیلات جلد جاری کریں گے۔
Comments are closed.