سپریم کورٹ بار کے 5 سابق صدور کا چیف جسٹس سے نظرثانی درخواست فل کورٹ میں بھیجنے کا مطالبہ

اسلام آباد : صدر اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن شعیب شاہین نے کہا ہے کہ اس وقت واحد سپریم کورٹ غیر متنازع رہ گیا ہے،پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیاں اپنے مسائل حل کرنے میں ناکام ہو گئیں ہیں،فائنل فیصلے پر وکیل اور صحافیوں کو تجزیہ کرنے کا حق ہونا چاہیے،مگر سماعت کے دوران ریمارکس کو ان ائیر کرنے پر پابندی ہونی چاہیے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن شعیب شاہین نے کہا ہے کہ مخصوص لوگ سپریم کورٹ کو ٹارگٹ کر رہے ہیں،ملک اس وقت سیاسی عدم استحکام کی جانب جا چکا ہے ہماری مقتدر طاقتیں، فوجی جرنیل اور سول طاقتوں کو احساس بھی نہیں ہے۔شعیب شاہین نے کہا ہے میڈیا اپنا مثبت کردار ادا کرے سماعت کے دوران ریمارکس اور سوالات کو بریکنگ بنانے پر پابندی ہونی چاہیےشعیب شاہین نے کہا کہ عدلیہ اور ججز کو متنازع بنانا شرمناک ہے،فیصلے سے اختلاف کر سکتے ہیں،

مگر آئین اور قانون کی تشریح سپریم کورٹ نے کرنی ہے،

سپریم کورٹ کے ماضی کے فیصلے کی تشریح بھی سپریم کورٹ نے کرنی ہےانھوں نے مزید کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کا رول ملک کی سیاست سے ختم ہونا ہو گا،پاکستان کو نئے میثاق جمہوریت کی ضرورت ہے،اگر نیشنل اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ غلط تھی تو پنجاب کے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ بھی درست نہیں،ججز کے خلاف نہیں بلکہ فیصلوں کے خلاف بولنا چاہیے۔

Comments are closed.