اسلام آباد: عدالت عالیہ کا کہنا ہے کہ گرینڈ حیات اور بنی گالہ کیسزکے فیصلوں نےعدالت کو مشکل میں ڈال دیا،فیصلے اسلام آباد کی تمام غیرقانونی تعمیرات کو ریگولر کرنے کا جواز بن چکے ہیں۔ گرینڈ حیات کیس کے بعد کیوں نا پورے اسلام آباد کی غیر قانونی عمارتوں کو ریگولر کردیا جائے؟ وفاقی حکومت عمارتوں کی ریگولرائزیشن پر ایک ماہ کے اندر واضح جواب دے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکم نامہ پارک کی زمین پر غیر قانونی پلازہ تعمیر کرنے والے بلڈر کی درخواست پر جاری کیا۔درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ رینڈ حیات اور بنی گالا ریگولر ہوسکتا ہے تو ہماری تعمیرات کیوں نہیں۔ عدالت نے کہاکہ شہریوں کے مساوی حقوق ہیں۔ ایک عمارت کو ریگولر کیا تو سب کو کرنا پڑے گا۔بنی گالا اور گرینڈ حیات کیسز پر اعلی عدلیہ کو درست حقائق نہیں بتائے گئے۔
چیئرمین سی ڈی اے عامر علی احمد نے عدالت کو بتایاکہ گرینڈ حیات کیس میں نظر ثانی اپیل دائر کردی گئی ہے ۔ عدالت نے حکم دیا کہ حکومت عمارتوں کی ریگولرائزیشن پر واضح موقف دے۔ گرینڈ حیات کیس کے بعد کیوں نا پورے اسلام آباد کی غیر قانونی عمارتوں کو ریگولر کردیا جائے ۔ پارک کی زمین پر غیر قانونی پلازہ تعمیر کرنے والے بلڈر کی درخواست کی سماعت چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کی تھی۔
Comments are closed.