اسلام آباد ہائی کورٹ نے نیب انکوائری کے دوران کسی بھی ملزم کا سیکشن 23 کے تحت بینک اکاونٹ بلاک کروانا خلاف قانون قرار دے دیا۔ عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ محض الزام پر سالوں تک بنک اکاونٹس بلاک کرنا بنیادی آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے جعلی اکاونٹس کیسز کے ملزم سابق صدر سندھ بنک بلال شیخ کی اکاونٹ سے رقم نکالنے کی درخواست پر فیصلہ سنایا۔ عدالت نے بلال شیخ کو ذاتی اکاونٹ استعمال کرنے کی اجازت نہ دینے کی نیب درخواست مسترد کردی۔عدالت نے فیصلے میں کہاکہ نیب نے انکوائری پر اثاثے منجمد کرنا ہوں تو دفعہ 12 کے تحت آرڈر کرے، انکوائری پر دفعہ 23 کےتحت اکاونٹ بلاک کرانا خلاف قانون ہے ۔ نیب قانون کے مطابق تیس روز میں مقدمات کا ٹرائل مکمل کروانے کا پابند ہے لیکن کیسز کی انکوائری اور انوسٹی گیشنز میں کئی کئی سال لگ جاتے ہیں۔ محض الزام پر سالوں تک بنک اکاونٹس بلاک کرنا بنیادی آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
فیصلے میں کہا گیاہے کہ تفتیشی ایجنسی کی تاخیر کی وجہ سے شہری کوخرچ کےلیے اکاونٹ سے رقم نکالنے سے کیسے روکا جاسکتا ہے عدالت نے قرار دیا کہ اگرگنہگار کو سزا دینا ریاست کا کام تو شہری کو اپنی رقم استعمال کا حق دینا بھی ضروری ہے۔
Comments are closed.