کوئی سپرپاور یابھارت غلط فہمی میں نہ رہے آخری دم تک لڑیں گے، وزیراعظم

تھرپارکر: وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ کوئی سپر پاور یا بھارت پاکستان کو غلام بنا لینے کی غلط فہمی میں نہ رہے۔ آخری دم تک لڑیں گے۔

وزیراعظم عمران خان نے تھر پارکر سندھ کے علاقے چھاچھرو میں صحت کارڈز تقسیم  کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نریندر مودی کی سیاست انسانوں کو تقسیم کرنا اور نفرتیں پھیلانا ہے اس لیے  پلوامہ کے بعد کشمیریوں کے ساتھ ظلم کیا اور مشتعل ہجوم نے مسلمانوں پر تشدد کیا۔ الیکشن میں کامیابی کے لیے مودی نےپاکستان کیخلاف جنگ کا ماحول بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے بار بار واضح کیا کہ جنگ نہیں امن چاہتے ہیں اس لیے بھارتی پائلٹ کو رہا کیا، کسی کو کوئی غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے۔ بھارت ہو یا کوئی سپرپاورپاکستانی حکومت اور قوم آخری گیند تک اپنی آزادی کےلیے لڑیں گے، فوج اورعوام دونوں تیار ہیں، بھارت اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ کچھ کیا تو جوابی کارروائی نہیں ہوگی۔

وزیراعظم نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں نے فیصلہ کیا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت کسی مسلح گروہ یا کالعدم تنظیموں کو کام کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، اپنی سرزمین کو کسی قسم کی دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔

عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں اقلیتوں کو ان کے پورے حقوق دیے جائیں گے، نفرتوں اور تقسیم کرنے کی سیاست کو ختم کریں گے، اب وہ دور نہیں رہا کہ لوگوں کو تقسیم کرکے ووٹ حاصل کیے جائیں۔ ایک آدمی نے اقتدار کے لیے لوگوں میں نفرتیں پھیلائیں جس سے کراچی کی تباہی ہوئی اور سرمایہ کار ملک چھوڑ کر چلے گئےاگر ایسی سیاست نہ ہوتی تو کراچی دبئی کا مقابلہ کررہا ہوتا۔

پیپلزپارٹی کی قیادت کو نشانہ بناتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ایک لیڈراپنا نام زرداری سےتبدیل کرکے بھٹو بن گیا، بلاول اور ان کے والد یوٹرن کا مطلب سمجھتے تو مشکل وقت سے نہ گزرتے اورآصف زرداری کرپشن سے یوٹرن لے لیتے تو عدالتوں کے چکر اور نیب مقدمات نہ بھگت رہے ہوتے، آصف زرداری نے اپنے بیٹے کو بھی پھنسادیا ہے، بلاول بھٹو نے انگریزی میں جو تقریر کی وہ شاید ایوان میں بیٹھے بہت سے لوگوں کو سمجھ ہی نہیں آئی ہوگی جب کہ ن لیگ اور جے یو آئی (ف) کے ارکان قومی اسمبلی بلاول کی انگریزی میں تقریر سن کر گھبراگئے اور غلط سمت منہ کرکے نماز پڑھ لی۔

وزیراعظم نے 2موبائل اسپتال اور 4 ایمبولینس دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ موبائل اسپتال میں  علاج کے  ساتھ آپریشن سمیت  دیگر سہولیات مہیا ہوں گے جب کہ  1لاکھ 12 ہزار گھرانوں کو ہیلتھ کارڈ دیا جائے گا۔

Comments are closed.