چیف الیکشن کمشنرکی تقرری اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پرہوئی تھی،عمران خان

Imran khan talk with Journalists

 اسلام آباد: سا بق وزیر اعظم عمران خان نے کہاہے کہ چیف الیکشن کمشنرکی اسکندر سلطان راجا کی تقرری اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پرہوئی۔ چیف الیکشن کمشنر کے خلاف ریفرنس دائر کرنے جا رہے ہیں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس دائر کرنا غلطی تھی ۔ کوئی ایسی بات نہیں کروں گا جس سے ملک کو نقصان ہو، ہمارے لیے مضبوظ فوج ناگزیر ہے۔ چتوشہ خانہ کے حوالے سے تمام الزامات بے بنیاد ہیں۔

بنی گالہ میں اپنی رہائش گا ہ پر صحافیوں کیساتھ ملاقات میں سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہاکہ چیف الیکشن کمشنرکی تعیناتی آزاد باڈی کے ذریعے ہونی چاہیے لیکن موجودہ چیف الیکشن کمشنر اسکندر سلطان راجاکی تعیناتی اسٹیبلشمنٹ کے ذریعے ہوئی۔چیف الیکشن کمشنر کے خلاف ریفرنس دائر کرنے جا رہے ہیں،الیکشن کمیشن نے بروقت حلقہ بندیاں نہ کر کے نا اہلی کا مظاہرہ کیا۔الیکشن کمیشن کی نااہلی کے باعث ملک میں قبل از وقت انتخابات تاخیر کا شکار ہوئے۔عمران خان نے اعتراف کیا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس دائر نہیں کرنا چاہیے تھا،ریفرنس وزارت قانون کی جانب سے بھیجا گیا تھا،میرا کسی سے کوئی ذاتی عناد نہیں۔ توشہ خانہ سے متعلق عمران خان نے کہاکہ ایک غیرملکی صدر نے گھرآکرتحفہ دیا ،وہ بھی تقشہ خانہ میں جمع کروا دیا، توشہ خانہ سے جو لیا وہ سب ریکارڈ پر ہے۔

عمران خان نے کہا کہ میرے خلاف اس وقت سازش ہوئی جب چیزیں ٹھیک ہورہی تھیں، میری لڑائی قیمتیں اوپر لے جانے والے مافیا ز کے خلاف تھی ۔ ایف آئی اے میں چوبیس ارب روپے کرپشن کی تفتیش کرنےوالوں کو تبدیل کیا جارہاہے۔ چئیرمین تحریک انصاف نے کہاکہ کوئی ایسی بات نہیں کروں گا جس سے ملک کو نقصان ہو، ہمارے لیے مضبوظ فوج ناگزیر ہے۔شہبازشریف اپنے افسران لگا کرمیچ فکس کریں گے اور کوشش میں ہیں کہ نواز شریف کے کیس ختم ہوں۔ کراچی اورپشاورمیں جتنے لوگ نکلےپا،کستان میں پہلے نہیں دیکھا۔جب یہ میچ کھیلتےہیں تو ایمپائرساتھ ملا کرکھیلتے ہیں ،قوم سے اپیل ہے انہیں تسلیم نہ کیا جائے۔ ایک سوال پر وزیر اعظم نے کہا کہ فرح خان کے پاس کوئی عہدہ تھا نہ وزارت ،وہ کیسے پیسے لےسکتی ہے،کسی کے پاس کوئی ثبوت ہے تو سامنے لائے۔

Comments are closed.