دی ہیگ: عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن یادیو کیس کی سماعت کے پہلے روز بھارتی وکیل ہریش سالوے نے ہزاروں پاکستانیوں کے قتل میں ملوث بھارتی جاسوس کی فوری رہائی کا مطالبہ کر دیا۔
انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس دی ہیگ میں ساڑھے تین گھنٹے دورانیے کی عدالتی کارروائی میں بھارتی وکیل کیس کے میرٹ پر بات کرنے کی بجائے آدھے سے زیادہ وقت کلبھوشن یادیو کو قونصلر رسائی نہ دینے کا رونا روتے۔ انہوں نے پاکستان کی جانب سے اٹھائے گئے چھ اہم سوالات کے جواب دیئے نہ ہی کیس میں کوئی نئی بات سامنے لا سکے۔
بھارتی وکیل کا کہنا تھا کہ فیصلے ان کی سرکار نے پاکستان سے تیرہ مرتبہ قونصلر رسائی کا مطالبہ کیا جس کا جواب نہیں دیا گیا۔ سزائے موت سنائے جانے کے بعد پاکستان نے کلبھوشن یادیو سے ان کی والدہ اور اہلیہ کی ملاقات کرائی۔
بھارتی وکیل کا کہنا تھا کہ قونصلر رسائی سے متعلق معاہدہ ویانا کنونشن کے آرٹیکل 36 پر ترجیح نہیں رکھتا، ویانا کنونشن میں جاسوس کی قونصلر رسائی میں بھی کوئی ممانعت نہیں۔
ہریش سالوے کا کہنا تھا کہ پاکستان نے بھارتی شہری کو ایران سے اغوا کیا اور کچھ عرصہ تک اس کی گرفتاری ظاہر نہیں کی۔ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کیخلاف آٹھ اپریل دو ہزار سولہ کو ایف آئی آر کا اندراج کیا گیا۔ کلبھوشن یادیو کا پاکستان میں دہشتگردی کرانے اور اپنے ملک کی خفیہ ایجنسی راء کیلئے کام کرتے ہوئے بلوچستان اور کراچی سمیت پاکستان بھر میں تخریبی کارروائیوں سے متعلق اعترافی بیان جاری کیا گیا۔ جس کے بعد پاکستان کی فوجی عدالت میں ٹرائل شروع کیا گیا۔ بھارتی وکیل نے الزام عائد کیا کہ کلبھوشن یادیو کو دوران ٹرائل اپنی مرضی کا وکیل کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
ہریش سالوے نے موقف اپنایا کہ کلبھوشن یادیو کیخلاف ٹرائل مکمل ہونے پر اسے پھانسی کی سزا سنائی گئی پاکستانی آرمی چیف نے سزا کی توثیق کی۔
دوران سماعت بھارتی وکیل نے مقدمے کے میرٹ کو چھوڑ کر پاکستانی عدالتی نظام کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے بے بنیاد الزام تراشی کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں فوجی عدالت کے فیصلے کے خلاف سول کورٹ میں اپیل کا حق نہیں دیا جاتا لیکن وہ اپنے اس الزام کو ثابت کرنے کیلئے کوئی ٹھوس دلیل دینے میں ناکام رہے۔
ہریشن سالوے کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہر عالمی فورم پر کلبھوشن یادیو کو بھارت کیخلاف بیانیے کے طور پر استعمال کیا۔ سابق وزیراعظم کے مشیر برائے امورخارجہ سرتاج عزیز نے اقوام متحدہ کو ایک ڈوزیئر بھی بھجوایا۔
بھارتی وکیل نے کلبھوشن یادیو کے دوبارہ ٹرائل سے متعلق آپشن پر بھی تشویش کا اظہار کیا ان کا کہنا تھا کہ کلبھوشن یادیو کا پہلے بھی فوجی عدالت میں ٹرائل ہوا، دوبارہ ٹرائل ہوا تو وہ بھی فوجی عدالت میں ہی کیا جائے گا۔ عالمی عدالت انصاف کلبھوشن کو ریلیف دینا چاہتی ہے تو دوبارہ ٹرائل نہ کرائے، پاکستانی رویہ ظاہر کرتا ہے کہ کلبھوشن کو پاکستان میں انصاف نہیں مل سکتا۔ انہوں نے استدعا کی کہ عالمی عدالت انصاف کلبھوشن سدھیر یادیو کو فوری طور پر رہا کرنے کا حکم دے۔
منگل کو ہیگ کے مقامی وقت کے مطابق عالمی عدالت انصاف دوبارہ بیٹھے گی۔ پاکستان کی جانب سے وکیل خاور قریشی دلائل دیں گے۔
Comments are closed.