اسلام آباد: نو ماہ بعد جسٹس فائز عیسیٰ کیس کا تحریری فیصلہ جاری ،سرینا عیسٰی کی نظر ثانی درخواستیں اکثریتی رائے سے منظور ،صرف جج کی اہلیہ ہونے پر سیرینا عیسیٰ کو آئینی حقوق سے محروم نہیں کیا جاسکتا،، جج اپنی اہلیہ اور بچوں کے معاملات کا ذمہ دار نہیں ہوتا،ہر شخص کو اپنے اعمال کا حساب دینا ہوتا ہے،،سیرینا عیسیٰ کو اس اہم ترین معاملے پر سماعت کا پورا حق نہیں دیا گیا۔
10 رکنی لارجر بینچ نے سرینا عیسیٰ کے حق میں فیصلہ 6،4 کے تناسب سے سنایا۔فیصلے میں کہا گیاہے کہ اس عدالت کے جج سمیت کوئی قانون سے بالاتر نہیں ،دوسری طرف کوئی بھی شخص چاہے وہ اس عدالت کا جج کیوں نہ ہو اسے قانونی حق سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔ہر شہری اپنی زندگی، آزادی، ساکھ، جائیداد سے متعلق قانون کے مطابق سلوک کا حق رکھتا ہے، آئین کے آرٹیکل 9 سے 28 تک ہر شہری کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرتے ہیں، اس بات سے قطع نظر کسی عہدے یا پوزیشن کے ہر پاکستانی قانون کے مطابق سلوک کا حق دار ہے۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کیس ایف بی آر کو بھجوانے پر سیرینا عیسی کا موقف نہیں سنا گیا ، آئین کے تحت شفاف ٹرائل ہر خاص و عام کا بنیادی حق ہے۔سیرینا عیسی اور ان کے بچے عام شہری، ان کے ٹیکس کا 184/3 سے کوئی تعلق نہیں، سیرینا عیسی ٰکے ٹیکس کا کیس سپریم جوڈیشل کونسل کو نہیں بھیجا جاسکتا، سپریم جوڈیشل کونسل کا دائرہ اختیار صرف ججز تک محدود ہے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل کو احکامات دیئے گئے،جسٹس قاضی فائز عیسی اور انکی اہلیہ کو نوٹس دیکر دفاع کا حق دینا چاہیئے تھا،بھارتی سپریم کورٹ نے بھی نوٹس دیکر فریق کو دفاع کا حق دینے پر زور دیا،جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ اور انکے بچے عام شہری ہیں،جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ اور انکے بچوں کے ٹیکس معاملات پر از خود نوٹس کا اختیار استعمال نہیں کیا جا سکتا۔جوڈیشل کونسل کی کارروائی پر ایف بی آر کے خلاف اپیل اثرانداز نہیں ہوگی، ایسا بھی ممکن تھا کہ چئیرمین ایف بی آر کی رپورٹ پر جسٹس فائز عیسی ٰبرطرف ہوجاتے، جج کی برطرفی کے بعد ایف بی آر کے خلاف اپیل سیرینا عیسی کے حق میں بھی آسکتی تھی۔ برطرفی کے بعد اپیل میں کامیابی کا فیصلہ ہونے تک جسٹس فائز عیسی ریٹائر ہوچکے ہوتے، ایسا بھی ممکن تھا کہ جوڈیشل کونسل ایف بی آر رپورٹ تسلیم نہ کرتی، سوموٹو لینے کی ہدایت دینا سپریم جوڈیشل کونسل کی آزادی کے خلاف ہے، آئین کے تحت سرکاری افسران ججز کے خلاف شکایت درج نہیں کروا سکتے ، چیئرمین ایف بی آر کی رپورٹ دراصل جسٹس فائز عیسی کے خلاف شکایت ہی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے ایف بی آر کو تحقیقات کا حکم دینا غلط تھا، سپریم کورٹ یا کوئی ادارہ سپریم جوڈیشل کونسل کو کارروائی کا نہیں کہہ سکتا ۔ججز کیخلاف کاروائی صدر پاکستان کی سفارش پر سپریم جوڈیشل کونسل کر سکتی ہے، سپریم کورٹ از خود نوٹس کا اختیار سپریم جوڈیشل کونسل پر استعمال نہیں کر سکتی۔جسٹس قاضی فائز عیسی اور انکے اہل خانہ کا ٹیکس ریکارڈ غیر قانونی طریقے سے اکٹھا کیا گیا،مرکزی کیس میں جسٹس قاضی فائز عیسی اور انکی اہلیہ کا مکمل موقف نہیں سنا گیا،کسی ایک جج کیخلاف کاروائی سے پوری عدلیہ کی آزادی پر سوال اٹھتا ہے، ،جج کوڈ آف کنڈکٹ کے مطابق اہل خانہ کے معاملات پر جوابدہ نہیں، جب تک ملوث ہونے کے واضح ثبوت نہ ہوں کسی اور کی غلطی پر دوسرے کو سزا نہیں دی جاسکتی۔سپریم جوڈیشل کونسل کو سپریم کورٹ کا حکم آرٹیکل 211 کی خلاف ورزی ہے،بعض اوقات ججز کی ساکھ متاثر کرنے کیلئے کوششیں ہوتی ہیں جبکہ ججز کے پاس اپنی صفائی پیش کرنے کیلئے عوامی فورم بھی نہیں ہوتا۔ایسی صورتحال میں عدلیہ کی بطور آئینی ادارہ عوام کی نظر میں ساکھ متاثر ہوتی ہے۔
جسٹس یحییٰ آفریدی کااضافی نوٹ
دوسری جانب جسٹس یحیی آفریدی نے اضافی نوٹ میں کہاہے کہ سیرینا عیسیٰ کے ٹیکس معاملے میں شہزاد اکبر اور فروغ نسیم نے غیر قانونی ہدایات دیں، غیر قانونی ہدایات کی وزیراعظم نے توثیق کی جس کے سنگین نتائج ہوسکتے ہیں، غیر قانونی ہدایات سے گڈ گورننس اور وزیراعظم کی ملی بھگت کھل کر سامنے آتی ہے، جسٹس فائز عیسیٰ بطور جج بنیادی حقوق کیلئے 184/3 کی درخواست دینے کے اہل نہیں۔سپریم کورٹ نے مختصر فیصلہ 26 اپریل 2021 کو سنایا تھا اور اب تحریری فیصلہ جسٹس مقبول باقر، جسٹس مظہر عالم میاں خیل، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس امین الدین نے تحریر کیا ہے جبکہ جسٹس یحیی ٰ آفریدی اور جسٹس منظور احمد ملک نے بھی حق میں فیصلہ دیا۔جسٹس عمر عطاء بندیال ، جسٹس سجاد علی شاہ ، جسٹس منیب اختر اور جسٹس قاضی امین نے فیصلے سے اختلاف کیا۔
Comments are closed.