راولپنڈی: وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسگی خواتین کشمالہ طارق کا کہنا ہے کہ ایسی شکایات بھی موجود ہیں جہاں دفاتر میں کام کرنے والی خواتین کو وہاں کے نائب قاصد بھی ہراساں کر رہے ہوتے ہیں۔ گڈ مارننگ کے میسج خواتین کو بھیجنا بھی ہراسگی کے زمرے میں آتا ہے۔
خواتین کے عالمی دن کی مناسبت سے راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے زیر اہتمام تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسگی خواتین کشمالہ طارق نے بطور مہمان خصوصی تقریب میں شرکت کی، صومالیہ کی سفیر خدیجہ محمد،صدر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات بھی تقریب میں موجود تھیں۔
تقریب کے آغاز پر سانحہ نیوزی لینڈ کے شہدا کیلئے خصوصی دعا کی گئی۔تقریب سے خطاب کرتےہوئے وفاقی محتسب کشمالہ طارق نے کہا کہ عورت کو تبدیل کرنے کے لئے مرد میں تبدیلی چاہیے، پاکستانی قوانین اچھے ہیں لیکن ان میں کہیں نہ کہیں نہ کہیں کچھ خامیاں بھی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہراساں صرف جنسی طور پر ہی نہیں بلکہ کئی اور طریقوں سے بھی ہراساں کیا جاتا ہے۔ ایسی شکایات بھی موجود ہیں جہاں دفاتر میں کام کرنے والی خواتین کو وہاں کے نائب قاصد بھی ہراساں کر رہے ہوتے ہیں۔ گڈ مارننگ کے میسج خواتین کو بھیجنا بھی ہراسگی کے زمرے میں آتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ معاشرے میں برداشت نہیں آئے گی تب تک بہتری نہیں آئے گی، ہر ادارے میں انسداد ہراسگی کمیٹی ہونی چاہئے جس میں عورت مرد کے خلاف اور مرد بھی مرد کے خلاف شکایات لا سکتے ہیں۔
Comments are closed.