کیا مریم نواز اور نون لیگ خود کنفیوژن کا شکا رہیں؟ کیا انہیں سمجھ ہی نہیں آر ہی کہ ان کا بیانیہ ہے کیا اور اسے کس طرح لیکر آگے بڑھنا ہے ؟ کیا اس انٹرویو کے بعد بھی ،،ووٹ کو عزت دو اور فوج کی سیاست میں عدم مداخلت کے بیانیے کا کوئی جواز باقی رہ پائے گا؟ مریم نواز کے بی بی سی کو دئیے گئے انٹرویو نے کئی سوالات کو جنم دے دیا؟
گلگت بلتستان میں الیکشن مہم کے دوران پاکستان مسلم لیگ نون کی نائب صدرمریم نواز کے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو دئیے گئے,,
انٹرویو کا لب لباب یہ ہے ، کہ اب وہ براہ راست فوجی قیادت سے سیاسی معاملات پر بات کرنا چاہتی ہیں، مریم نواز نے کہا ہے کہ ان کی جماعت فوج سے بات کرنے کے لیے تیار ہے لیکن شرط صرف ایک ہے کہ تحریکِ انصاف کی حکومت کو گھر بھیجا جائے۔
وہی نون لیگ ، وہی نواز شریف اور مریم نواز جنھوں نے کل تک فوجی قیادت پر براہ راست حملوں میں پاکستان کے دشمنوں کو بھی مات دے دی ، ہر تقریر میں قوم کو ایک ہی چورن بیچنے کی کوشش کی گئی کہ ہم ،،ووٹ کو عزت دو،، اور فوج کی سیاست میں مداخلت ہمیشہ کے لیے بند کرنے کے لیے کشتیاں جلا کر نکلے ہیں اور اب اس انقلاب کے راستے پر جان جائے تو جائے ، واپسی کا کوئی راستہ نہیں، قوم کو یقین دلایا جا رہا تھا کہ اب کی بار نون لیگ واقعی انقلاب کی راہ پر چل نکلی ہے اور نواز شریف ہی اس تحریک کے ، چی گویرا، ہیں۔ اب نون لیگ یکدم فوج سے مذاکرات پر تیا ر ہو چکی ہے اور شرط بھی یہ رکھی گئی ہے کہ ، فوج عمران خان کی حکومت کا خاتمہ کرے ۔یوں نواز شریف کے انقلابی قافلے کی سرخیل مریم نواز نے اپنے سارے بیانیے پر خود ہی پانی پھیر دیا ۔

نون لیگ فوج سے بات کرنے کے لیے تیار ہے، شرط صرف حکومت کو گھر بھیجنے کی ہے ، مریم نواز کے اس ایک جملے نے نون لیگی قیادت اور کارکنان کو ورطہ حیرت میں ڈال رکھاہے۔ کسی کو کچھ سمجھ نہیں آرہی کہ نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز ،جنھوں نے پوری پارٹی قیادت کے نہ چاہتےہوئے بھی انہیں اس بیانیے پر اپنے پیچھے لگا دیا کہ فوج کی سیاست میں مداخلت اب کسی صورت قبول نہیں، وہی مریم نواز تاریخی یوٹرن لیتے ہوئے کہہ رہی ہیں کہ ، فوج سیاست میں کھل کر سامنے آئے اور تحریک انصاف کی حکومت کو گھر بھیجے ۔یہ کہہ کر مریم نواز در حقیقت ایک سیاسی حکومت کو گھر بھیجنے کا اختیار فوج کو دے رہی ہیں؟ مطلب ووٹ کو نہیں ہمیں عزت دو تو آپ کی ہر مداخلت ہر ادا سر آنکھوں پر ؟
میرے رائے میں مریم نواز نے ڈان لیکس کے بعد نون لیگ کی سیاست پر دوسرا خود کش حملہ کیاہے ۔ انھوں نے ثابت کیاکہ وہ سیاسی حرکیات کو سمجھتی ہیں نہ انہیں علم ہے کہ کون سی بات کتنی اور کس وقت کرنی چاہیے ؟ مریم نواز کا یہ بیان فوج کو سیاست میں مداخلت اور کسی بھی حکومت کو گھر بھیجنے کی اب تک کی سب سے بڑی اور سر عام دعوت تصور کی جائے گی ۔
ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ فوج کی سیاست میں عدم مداخلت کا بیانیہ کہاں گیا؟ کیا اب فوجی قیادت ایک با رپھر یہ کہنے میں حق بجانب نہیں ہو گی کہ سیاستدانوں کاجو ٹولہ اقتدار سے باہر بیٹھا ہوتا ہے وہ رات کے اندھیروں کے بعد اب دن کے اجالے میں بھی ہمیں د عوت دیتا ہے کہ دوسرے کو گھر بھیجو اور ہمیں لاو، اور اس کے لیے جو کرنا ہے کرگزرو۔
مریم نواز کے اس انتہائی غیر سیاسی اور غیر معقو ل بیان کی ،،اگر مگر،، کیساتھ توجیہات پیش کرنا شائد اب شاہد خاقان عباسی ، احسن اقبال ، خواجہ سعد رفیق اور راناء ثناء اللہ کے لیے بھی ممکن نہ ہو۔نون لیگی کارکنان بھی اب پی ڈی ایم کے جلسوں میں جانے سے پہلے یہ ضرور سوچیں گے کہ ایجنڈا ،ان کے ووٹ کو عزت دینا نہیں، صرف اقتدار کے حصول کے لیے بارگین ہے اور جلسے اداروں پر دباو بڑھانے کے ہتھکنڈوں کے سوا کچھ نہیں۔
حکومتی وزراء مریم نواز کے اس بیان کو لے کر باب ،بیٹی کی خوب بھد اڑا رہے ہیں اور اسے ،ووٹ کو عزت دو،، کے بیانیے کو دفن ، کرنے کے مترادف قرار دے رہے ہیں، غور کیا جائے تو اس میں شک کی زیادہ گنجائش بھی نہیں۔ مریم نواز نے اپنے ہی خلاف گول کر دیا اور اس کے بعد ان کے لیے میچ جیتنے کاکوئی موقع نہیں رہا۔

دوسری جانب بلاول بھٹوکو بھی سیاست میں ابھی بہت کچھ سیکھنا پڑے گا لیکن فی الوقت اس میں کوئی شک نہیں کہ کم وقت میں بلاول بھٹو نے خود کو مریم نواز سے بہت بہتر اور زیرک سیاستدان ثابت کیا ہے ، اردو زبان پر عبور نہ ہونے کے باوجود بلاول نے سیاسی بات کہنے اور متعلقہ جگہ تک پیغام پہنچانے کا ڈھنگ سیکھ لیا ہے جو مریم نواز ابھی تک نہیں سیکھ پائیں۔۔۔۔
Comments are closed.