مریم نوازنے بھی آصف علی زرداری کو کھری کھری سنادیں

  اسلام آباد: پی ڈی ایم اجلاس میں آصف علی زرداری نے نواز شریف کی پاکستان واپسی کا مطالبہ کیا تو مریم نواز نے بھی باری آنے پر سخت جواب دیا۔آصف زرداری کی گفتگو کا جواب دیتے ہوئے مسلم لیگ نون کی نائب صدر مریم نواز نے کہاکہ مسلم لیگ (ن) سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے، یہ پارٹی کا اور میرا فیصلہ ہے کہ جب تک قائد محمد نوازشریف کی صحت ٹھیک نہیں ہوجاتی، انہیں لندن سے واپس نہیں آنا چاہئے،جس طرح بلاول بھٹو زرداری کو صرف آپ کے بیٹے کے طورپر نہیں دیکھا جاتا، اسی طرح مجھے بھی صرف بیٹی کے طورپر نہیں

دیکھنا چاہئے۔میں مسلم لیگ (ن) کی کارکن ہوں، میرا فیصلہ ہے کہ میں یہیں رہوں گی اور لڑوں گی۔
مریم نواز کا کہنا تھاکہ آصف زرداری صاحب آپ یہاں پاکستان میں موجود ہیں لیکن پھر بھی وڈیو لنک سے پی ڈی ایم اجلاس میں شریک ہوتے ہیں،آپ کی طرح قائد محمد نوازشریف بھی وڈیو لنک سے اجلاس میں شریک ہوتے ہیں؟آپ نے یہ بھی کہا کہ اسحاق ڈار صاحب کے نہ آنے سے ایک ووٹ ضائع ہوگیا،قومی اسمبلی میں 83 اور سینٹ میں 17 ووٹ یوسف رضا گیلانی کو دئیے ، اس پر مسلم لیگ (ن) کا شکریہ ادا کرنے کے بجائے آپ ضائع ہونے والے ایک ووٹ کا ذکر کررہے ہیں، میں یہ بات نہیں کرنا چاہتی تھی کونکہ یہ چھوٹی بات ہے۔

مریم نواز نے کہاکہ محمد نوازشریف بستر مرگ پر دم توڑتی اپنی اہلیہ کو چھوڑ کر وطن واپس آئے تھے اور جھوٹے فیصلوں، غیرقانونی کھیل اور سیاسی انتقام کے باوجود وہ عدالتوں میں پیش ہوئے اور جیل گئے، کوئی بھی جیل کا سامنا نہ کرنے کا الزام محمد نوازشریف پر نہیں لگاسکتا،محمد نوازشریف نے جرات، بہادری اور ثابت قدمی سے بدترین حالات کا مقابلہ کیا۔

مریم نواز کی گفتگو کے بعد سابق صدر آصف علی زرداری نے مریم نواز سے معذرت کی، مریم نواز نے کہاکہ میرا مقصد آپ سے معذرت کروانا نہیں تھا، میں نے آصفہ اور بختاور کی طرح آپ سے گلہ کیا۔

جے یو آئی اور نون لیگ سمیت دیگر جماعتوں نے موقف اختیار کیاکہ استعفوں کے بغیر لانگ مارچ کا کوئی فائد ہ نہیں ہوگا، جب تک استعفے نہیں دیں گے ، حکومت کو دباؤ میں نہیں لایا جاسکتا۔ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کے معاملے پر بھی اختلاف سامنے آگیا، پیپلز پارٹی نے مطالبہ کیا اکثریتی جماعت کو ہی اپوزیشن لیڈرکا عہدہ دیا جائے ۔ دیگر جماعتوں نے کہاکہ چیئرمین، ڈپٹی چیئرمین اور اپوزیشن لیڈر کے حوالے سے حتمی مشاورت ہوچکی تو پھر نیا مطالبہ کیوں؟

پی ڈی ایم سربراہ مولانا م فضل الرحمان نے کہاکہ نو جماعتیں ایک طرف اور پیپلز پارٹی دوسری طرف ہے،پیپلز پارٹی صرف اپنی جماعت کو نہیں پوری اپوزیشن کے موقف کو سامنے رکھے، اپوزیشن جماعتوں نے ہم سے ووٹ لیا اور ہمیں ووٹ کیو نہیں دیا؟ ڈپٹی چیئرمین سینٹ کے انتخاب میں اپوزیشن کے سات ووٹ کم پڑے ، حکومتی امیدوار کو پڑنے والے سات ووٹوں کا ذمہ د ار کون ہے ؟؟

Comments are closed.