سانحہ مری کی تحقیقاتی رپورٹ وزیر اعلیٰ پنجاب کو پیش، 15 افسران کو عہدوں سے ہٹا دیاگیا

لاہور: سانحہ مری کی تحقیقاتی کمیٹی نے وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کو رپورٹ پیش کردی، جس میں انتظامیہ غفلت اور کوتاہیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔وزیراعلیٰ نے سانحہ مری کی تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں 15 افسران کو عہدوں سے ہٹاکرکے انضباطی کارروائی کا حکم جاری کردیا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ ’سانحہ مری پر 15 افسران کو معطل کر کے انضباطی کارروائی کا حکم دیا، کمشنر راولپنڈی کو عہدے سے ہٹانے کی سفارش بھی کی جبکہ اسسٹنٹ کمشنر مری کو عہدے سے ہٹایا گیا۔وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ قوم سے سانحہ مری کی شفاف تحقیقات کا وعدہ پورا کر دیا ہے، متعلقہ افسران کی غفلت کے باعث اتنا بڑا واقعہ پیش آیا۔

تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ متعلقہ محکموں کے افسران واٹس ایپ کے ذریعے ایک دوسرے کو صورت حال سے آگاہ کرتے رہے اور کوئی اقدامات نہیں کیے، افسران صورت حال کو سمجھ سکے اور نہ ہی سنجیدگی سے لیا جس کی وجہ سے پلان پر عمل درآمد نہ ہوسکا۔کئی افسران نے واٹس ایپ میسجز بھی تاخیر سے دیکھے، سی سی پی او، سی ٹی او، کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر نے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جبکہ محکمہ جنگلات سمیت ریسکیو 1122 کے مقامی دفتر نے بھی کوئی اقدامات نہیں کیے۔

 سانحہ مری کے حوالے سے قائم کی جانے والی 5 رکنی انکوائری کمیٹی نے سرکاری افسران اور زندہ بچ جانے والے سیاحوں کے بیانات کو قلم بند کر کے 16 جنوری کو رپورٹ تیار کی تھی جسے اگلے روز وزیراعلیٰ پنجاب کو پیش کیا گیا تھا۔اس رپورٹ میں انکوائری کمیٹی نے سانحہ مری کا ذمہ دار انتظامیہ کو قرار دیا اور لکھا کہ انتظامی غفلت و لاپرواہی کی وجہ سے واقعہ پیش آیا، محکمہ موسمیات کی وارننگ کو مسلسل نظر انداز کیا اور پانچ دن برفباری کے بعد راستوں کو دو روز تاخیر سے بند کیا گیا جبکہ برف ہٹانے والی مشینری ایک جگہ کھڑی رہی اور عملہ غائب تھا۔

Comments are closed.