اسلام آباد: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی ٰ نے نیب ترمیمی آرڈیننس 2021ء کی منظوری دے دی جس کے بعد وزارت قانون نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ چئیرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاویداقبال کو توسیع مل گئی، نئے چئیرمین کی تعیناتی تک کام جاری رکھ سکیں گے۔
قومی احتساب بیورو کے اختیارات میں کمی سمیت مجموعی طور پر نیب قانون کی گیارہ شقوں میں ترامیم کی گئی ہیں۔ چئیرمین نیب کی دوبارہ تعیناتی کیساتھ موجودہ چئیرمین کام جاری رکھ سکیں گے ۔چئیرمین نیب کی تقری پر وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان مشاورت کی شق برقرار رکھی گئی ہے۔
نیب ترمیمی آرڈیننس 2021 کی منظوری کے بعد موجودہ چئیرمین نیب کی دوبارہ تعیناتی بھی ہوسکے گی تاہم ٹیکس کیسز، اجتماعی فیصلہ سازی اورطریقہ کار کی غلطی جیسے امور نیب دائرہ اختیار میں نہیں رہے ۔ وفاقی و صوبائی کابینہ، کمیٹیوں، کونسلز، کمیشنز اور بورڈ فیصلوں پربھی نیب اختیار ختم ، اچھی نیت سے سرکاری امور نمٹانے، براہ راست مالی فائدہ نہ لینے کے کیسز بھی اب نیب اختیار میں نہیں آئیں گے۔ آرڈیننس کے تحت احتساب عدالت کے ججوں کو ہائیکورٹ کے جج کے برابر مراعات ملیں گی جبکہ احتساب عدالت کے جج کو ہٹانے کے لیے صدر و چیف جسٹس کی مشاورت لازم ہوگی ۔صدرمملکت جتنی چاہیں احتساب عدالتیں قائم کرسکیں گے ۔
نیب ترمیمی آرڈیننس میں کرپشن کیسز کا روزانہ کی بنیاد پر ٹرائل کرکے چھ ماہ میں فیصلے سنایاجائےگا جبکہ احتساب عدالت میں آڈیو ،ویڈیو آلات سے بیانات بھی ریکارڈ ہوں گے۔ ریفرنس دائر ہونے سے پہلے اور بعد چئیرمین نیب کو مقدمہ ختم کرنے کا اختیار بھی مل گیا۔ آرڈیننس کے تحت چئیرمین نیب کی تقری پر وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان مشاورت کی شق برقرار رکھی گئی ہے ، عدم اتفاق کی صورت میں صدرمملکت معاملہ بارہ رکنی پارلیمانی کمیٹی بھجوا دیں گے جبکہ چئیرمین نیب کو ہٹانے کے لیے سپریم جوڈیشل کونسل سے رجوع کرناہوگا۔
Comments are closed.