اسلام آباد:حکومت نے پہلی قومی پالیسی کا آدھا حصہ پبلک کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ وزیر اعظم عمران خان جمعے کو پچاس صفحات پر مشتمل غیر خفیہ پالیسی کے نکات کا اجراء کرینگے جبکہ پالیسی کا پہلا حصہ کلاسیفائیڈ تصور ہو گا۔ قومی سلامتی پالیسی میں معاشی تحفظ کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔
پہلی ملکی قومی سلامتی پالیسی کے اہم نکات سامنے آگئے،سو سے زائد صفحات پر مشتمل پالیسی کا آدھا حصہ پبلک کیاجائے گا۔مسلہ کشمیر کو پاکستان کی سلامتی پالیسی کااہم جزو قرار دیاگیاہے ۔ وزیر اعظم عمران خان جمعے کو پچاس صفحات پر مشتمل غیر خفیہ پالیسی کے نکات کا اجراء کرینگے جبکہ پالیسی کا پہلا حصہ کلاسیفائیڈ تصور ہو گا۔ قومی سلامتی پالیسی میں معاشی تحفظ کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے، خطے میں امن ،رابطہ کاری اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ تجارت بھی پالیسی کے بنیادی نقات ہیں۔ہائبرڈ وار فئیرکو بھی قومی سلامتی کمیٹی کا حصہ بنایا گیاہے جبکہ مسئلہ کشمیر کا حل بھی پالیسی کی ترجیحات میں شامل ہے ۔
قومی سلامتی پالیسی میں ملکی وسائل بڑھانے کی حکمت عملی مرتب کرتے ہوئے بڑھتی آبادی کو انسانی تحفظ کے لیے بڑا چیلنج قرار دیا گیا ہے ۔شہروں کی جانب ہجرت، صحت، پانی ، خواراک ،ماحولیات، اور صنفی امتیاز کے مسائل کو بھی پالیسی میں نمایاں حیثیت دی گئی ہے، گڈ گورننس، سیاسی استحکام اور وفاق کی مضبوطی بھی پالیسی کا حصہ ہے۔ حکومت ہر ماہ نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کو عملدرآمد رپورٹ پیش کرنے کی پابند ہو گی۔ قومی سلامتی پالیسی پر ہر سال نظرثانی کی جائے گی اور نئی حکومت کو پالیسی میں ردوبدل کا اختیار حاصل ہوگا۔
Comments are closed.