اسلام آباد: احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف فلیگ شپ اور العزیزیہ ریفرنسز کی سماعت مکمل کر کے فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ وکیل صفائی خواجہ حارث کی ایک دستاویز پیش کرنےکیلئے ایک ہفتہ کی مہلت دینے کی استدعا مسترد کر دی گئی۔ دونوں ریفرنسز کا فیصلہ 24 دسمبر کو سنایا جائے گا۔ احتساب عدالت میں آخری پیشی پر نواز شریف انصاف کی پر امید نظر آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ استغاثہ ان کے خلاف کوئی کرپشن ثابت نہیں کر سکا، امید ہے عدالت انصاف کرے گی۔
سماعت کے آغاز پر نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نےبرطانیہ میں حسن نواز کی کمپنیوں سےمتعلق نئی دستاویزات عدالت میں پیش کیں جو لینڈ رجسٹریشن ڈیپارٹمنٹ سے تصدیق شدہ ہیں خواجہ حارث نے فلیگ شپ ریفرنس میں جواب الجواب مکمل کیا تو اس کے بعد نیب کے وکلا نے مختصر حتمی دلائل دیئے۔ اس کے بعد خواجہ حارث نے عدالت سے کہا کہ برطانیہ سے ایک دستاویز آنا باقی ہے ، اس کیلئے ایک ہفتہ کا وقت دیا جائے ۔ جج ارشد ملک نےکہا فیصلہ 24 دسمبر کو سنایا جائے گا ، وکیل صفائی 21 تاریخ تک دستاویز جمع کرا سکتے ہیں ۔
سماعت کےاختتام پر نوازشریف روسٹرم پر آگئےاور سوال کیاکہ کیا آج میری آخری پیشی تھی ؟ جج ارشد ملک نے جواب دیا جی ہاں آج آخری پیشی تھی ۔ نوازش ریف نے مزید کہا ایک پائی کی کرپشن ثابت نہیں ہوئی ، بہت تکلیف ہوتی ہے جب دیکھتا ہوں کہ کارروائی مفروضوں پر ہو رہی ہے، میری بیٹی کو مجرم بنا دیاگیا ، آپ جج ہیں انصاف کی امید ہے، میری 78ویں پیشی ہے، اس سلوک کی وجہ سمجھ نہیں آتی ۔
نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنسز کی مجموعی طور پر 183 سماعتیں ہوئیں ، نیب کی جانب سے العزیزیہ ریفرنس میں 22 اور فلیگ شپ میں 16 گواہان پیش کئے گئے ، نواز شریف کو پندرہ بار اڈیالہ جیل سے پیشی کیلئے لایا گیا ، دونوں ریفرنسز پر ابتدائی 103سماعتیں جج محمد بشیر نے کی تھیں ، بعد میں 80 سماعتیں جج ارشد ملک نےکیں۔
Comments are closed.