اسلام آباد:سپریم کورٹ نے نور مقدم کیس میں مرکزی ملزم ظاہر جعفر کی والدہ کے دس لاکھ مچلکوں کے عوض درخواست ضمانت بعد از گرفتاری منظور کرلی جبکہ والد ذاکر جعفر کی درخواست ضمانت خارج کر دی ۔عدالت عظمیٰ نے ٹرائل کورٹ کو قانون کے مطابق کارروائی مکمل کرنے کی بھی ہدایت کی ہے ۔
ملزمان کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ذاکر جعفر اور عصمت آدم جی مقدمے میں نامزد نہیں تھے،مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے پولیس بیان کے بعد والدین کو نامزد کیا گیا، ملزمان پر صرف قتل چھپانے کا الزام ہے۔جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ بظاہر ماں کے جرم میں شامل ہونے کے شواہد نہیں۔جسٹس منصور علی شاہ کے استفسار پر ایڈوکیٹ جنرل نے بتایا کہ ملزمان پر فرد جرم عائد ہو چکی ہے جبکہ آٹھ ہفتوں میں ٹرائل مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
سماعت میں وقفہ کے بعد سپریم کورٹ نے مرکزی ملزم کی والدہ عصمت ذاکر کی دس لاکھ مچلکوں کے عوض درخواست ضمانت بعد از گرفتاری منظور کرلی اور والد ذاکر جعفر کی درخواست ضمانت واپس لینے پر خارج کردی۔۔ عدالت عظمی ٰ نے ٹرائل کورٹ کوہدایت کی کہ ہائیکورٹ کے فیصلے کا اثر لیے بغیرقانون کے مطابق کارروائی مکمل کی جائے ۔
Comments are closed.