لاہور: وزیراعظم عمرا ن خان نے کہا کہ حکومت حزب اختلاف کی تمام باتیں ماننے کو تیار ہے لیکن احتساب سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
پنجاب حکومت کی 100 روزہ کارکردگی سے متعلق منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ جو کمیٹی پارلیمنٹ میں احتساب کرتی ہے اس پر شہباز شریف کو چیئرمین بنا دیا گیا جس پر دنیا میں ہماری جمہوریت کا مذاق اڑ رہا ہے، ایک طرف اپوزیشن جماعتیں پارلیمنٹ کو مقدس کہتی ہیں لیکن دوسری طرف کرپٹ لوگوں کو پارٹی سربراہ بنا کرپارلیمان کی توہین کرتی ہیں۔
عمران خان نے کہا کہ اپوزیشن کی تمام باتیں ماننے کو تیار ہیں لیکن احتساب سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، یہ نہیں ہوسکتا کہ ہم احتساب سے پیچھے ہٹ جائیں کیونکہ نئی نسل کا مستقبل کرپشن فری پاکستان سے جڑا ہے جب تک کرپشن ختم نہیں کی گئی تو ملک کے مستقبل کو خطرات لاحق رہیں گے۔
وزیراعظم نے کہا کہ لوگ کہتےہیں آپ پرانی حکومت کی باتیں کرتےرہتےہیں، یہ بتانا ضروری ہے سابق حکومت نے کیا کیا ہے، پچھلی حکومت نے 100 ارب روپےپروویڈنٹ فنڈ ہضم کرلیا، جنوبی پنجاب کا ڈھائی سوارب روپیہ وہاں خرچ نہیں ہوا ، جنوبی پنجاب اور بلوچستان میں انصاف کے تقاضے پورے نہیں کیے گئے اور محرومیوں کی وجہ سے بلوچستان میں انتشار ہوا جیسے مشرقی پاکستان کے لوگ بار بار کہتے رہے کہ ہمیں انصاف نہیں مل رہا، پھر حقوق کی بات ہوئی اور بڑھتے بڑھتے بات علیحدگی تک پہنچ گئی،جب انصاف نہ مل رہا ہو تو لوگ الگ ہونے کی طرف جاتے ہیں تاہم ہماری پنجاب حکومت نےایک فیصلہ کیاہےکہ علاقوں اورشہروں میں منصفانہ تقسیم ہوگی۔
وزیراعظم نے کہا کہ پنجاب کا آدھا بجٹ لاہور پر خرچ کردیاگیا تھا،یہ شہر تو ٹھیک ہوگیا لیکن دیگر مسائل بڑھ گئے، لاہور کا حدود حربہ بڑھ گیا ہے اور یہاں ہریالی بھی کم کردی گئی ہے جس کی وجہ سے آلودگی بڑھ گئی ہے جس سے آنے والے دنوں میں چھوٹے بچے اور بزرگ متاثرہوں گے۔
Comments are closed.