لٹیروں کو این آر او دینا ملک سے غداری کے مترادف ہوگا، وزیراعظم عمران خان

بلوکی: وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ کرپٹ افراد میں سے کسی کو بھی نہیں چھوڑیں گے۔ پاکستان کو دیوالیہ بنانے لٹیروں کو این آر او دینے کا مطلب ملک سے غداری کرنا ہوگا۔

وزیراعظم عمران خان نے بلوکی میں خطاب کرتے ہوئےکہا کہ عمران خان نے کہا کہ این آر او سے کرپٹ لوگوں کوحوصلہ ملا، نواز شریف اورآصف زرداری نے 5،5 سال حکومت کی اور پچھلے دس سال میں پاکستان کا قرضہ 30 ہزار ارب تک پہنچ گیا، آج روپے کی قدر گرنے کی وجہ بھی یہی ہے جس کے باعث مشکلات بڑھ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت کسی کو بھی نہیں چھوڑے گی۔ جس نے اس ملک کا دیوالیہ نکالا جب کہ لٹیروں کواین آراو دینے کا مطلب ملک سے غداری کرنا ہوگا۔

عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں دو این آر اوز نے ملک کو مقروض کیا، اسی وجہ سے طاقت ور لوگوں نے سوچا کہ چوری کی کوئی سزا نہیں ہوتی، پرویزمشرف نے اقتدار بچانے کیلئے نوازشریف کو جانے دیا، کسی کو خوف نہیں تھا کیونکہ یہاں کوئی پوچھنے والا نہیں تھا، قرضوں کی قیمت عوام مہنگائی کی شکل میں ادا کرتی ہے، دس سال ملک کو تباہ کیا گیا اور اب کہتے ہیں کہ چھ ماہ میں پی ٹی آئی نے کچھ نہیں کیا۔

وزیراعظم نے کہا سب کہتے ہیں تبدیلی کیا ہے، تبدیلی یہ ہے کہ 5 ماہ میں تین وزرا نے استعفے دیے، لیکن یہ لوگ جنہوں نے  اربوں روپے کی کرپشن کی، جعلی اکاؤنٹس بنائے، ان میں سے کوئی ایک استعفی کا نہیں سوچتا، احتساب کسی میں امتیاز نہیں کرتا، یہ ہے وہ حکومت جو صحیح معنوں میں احتساب کرے گی۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اسمبلی چلانے کی جتنی کوشش کرنی تھی کرلی، جمہوریت کی تاریخ میں ایسا کبھی ہوا ہی نہیں کہ ایک جیل سے آدمی اٹھ کرآئے اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین بن جائے اورپھراسی نیب کو طلب کرلے، کسی بھی جمہوریت میں ایسا کوئی تصور نہیں۔

وزیراعظم نے بلوکی ریزورٹ پارک کو بابا گرونانک کے نام سے منسوب کرنے اور گرونانک یونیورسٹی کے قیام کا بھی اعلان کیا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ طاقت ورلوگ جو زمینوں پرقبضہ کر کے بیٹھے ہوئے ہمیں وہاں زیادہ سے زیادہ درخت لگانے اورجنگل بنانے ہیں ، پاکستان دنیا میں آٹھویں نمبرپرہے جو ماحول کے حساب سے خطرے میں ہیں، جنگلات کی کمی ہمارے لیے زندگی اور موت کا سوال ہوگیا ہے۔ آگے حالات برے نظر آرہے ہیں، خشک سالی آجائے گی، شہروں میں آلودگی بڑھتی جائے گی اور بارشیں کم ہوجائیں گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے ملک میں سب سے کم جنگلات ہیں، جو بڑے بڑے جنگلات تھے  وہ سب تباہ ہوگئے، پچھلے دس سالوں میں شہروں میں درخت کاٹے گئے جس کے باعث آلودگی بڑھی، ہمیں جنگلات کی کٹائی آنے والی نسل کی بہتری کے لیے روکنی ہے جب کہ ہمیں اپنے شہروں سے بھی پارکوں پر جو قبضے کیے جارہے ہیں انہیں بچانا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں اگلے 5 سال دس ارب درخت لگانے ہیں، کے پی کے میں شجر کاری کی مثال سب کے سامنے ہے جس کی تعریف دنیا میں کی گئی۔

Comments are closed.