ساہیوال: قادرآباد کے قریب مبینہ پولیس مقابلہ پولیس اہلکاروں کی فائرنگ سے 4 افرادجاں بحق ہوگئے۔جاں بحق افراد میں دو خواتین بھی شامل ہیں ۔ پولیس کی فائرنگ سے کار میں سوار تین میں سے ایک بچہ بھی زخمی ہوا۔
ساہیوال پولیس اور سی ٹی ڈی پہلے تو معاملہ کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالتے رہے۔ بعد میں پولیس نے جاں بحق افراد کو پہلے اغوا کار بتایا، بعد میں دہشت قرار دے دیا۔ دوسری جانب سی ٹی ڈی ترجمان نے 3 گھنٹے بعد بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ جاں بحق افراد کا تعلق داعش سے تھا، گاڑی سے خودکش جیکٹ، دستی بم اور اسلحہ بھی برآمد ہوا۔
پولیس ترجمان کے مطابق انسداد دہشتگردی فورس لاہورنے کار کا پیچھا کرتے ہوئے قادرآباد پہنچی اورگاڑی کو روکا جہاں فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ فائرنگ کے نتیجے میں مبینہ دہشت گرد دو مرد اور دو خواتین ہلاک ہو گئے۔
دوسری جانب عینی شاہدین کے مطابق گاڑی میں تین بچے بھی موجود تھے، کارسواروں کی جانب سے پولیس کی فائرنگ پر کوئی مزاحمت یا جوابی فائرنگ نہیں کی گئی۔ کار سوار بچوں نے عینی شاہدین کو بتایا کہ ان کے والدین کو پولیس نے مارا۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے واقعے کے بعد پولیس بچوں کو پٹرول پمپ پر چھوڑ گئی۔اور تھوڑی دیر بعد پولیس اہلکار بچوں کو دوبارہ ساتھ لے گئے۔
زخمی بچے ڈی ایچ کیو اسپتال منتقل کر دیے گئے۔بچوں کے کمرے کے باہر پولیس کی نفری تعینات ہے۔ جبکہ کارسا ہیوال پولیس کے قبضے میں ہے۔
قبل ازیں پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ سی ٹی ڈی اہلکار ہلاک ہونےوالے مرد وخواتین کی لاشیں اور بچوں کے علاوہ کار سے برآمد ہونےوالی اشیا اپنے ساتھ لے گئی۔
Comments are closed.