حکومت کاہارس ٹریڈنگ کے خلاف صدارتی ریفرنس لانے کا فیصلہ

اسلام آباد: حکومت نےہارس ٹریڈنگ کے خلاف صدارتی ریفرنس لانے کا فیصلہ کرلیا۔ آرٹیکل 63 اے کی تشریح کیلئے سپریم کورٹ میں آرٹیکل 186 کے تحت ریفرنس دائر کیا جائیگا۔صدارتی ریفرنس سپریم کورٹ کے 2018 کے فیصلے کی روشنی میں لایا جائے گا۔ وزیر اعظم عمران خان کہتے ہیں، یہ لوگ مائنس ون چاہتے ہیں لیکن ایسا کسی صورت نہیں ہو سکتا،ایسے اقدامات کریں گے کہ مستقبل میں کسی کو ہارس ٹریڈنگ کی جرات نہ ہو سکے۔

وزیراعظم کی زیر صدارت بنی گالہ میں  حکومتی سیاسی  کمیٹی کااہم مشاورتی اجلاس ہوا جس میں منحرف ارکان اسمبلی کے خلاف قانونی کارروائی کے حوالے سے مشاورت اور آئندہ کی حکمت عملی پر بھی غور کیا گیا جبکہ مشیر پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان اور اٹارنی جنرل نے بریفنگ دی۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیاکہ منحرف اراکین کے خلاف ڈاکٹربابراعوان اور عامر محمود کیانی سپریم کورٹ میں صدر کی جانب سے ریفرنس دائر کریں گے۔ وزیراعظم نے کہاکہ یہ لوگ مائنس ون چاہتے ہیں لیکن ایسا کسی صورت نہیں ہو سکتا۔ اپوزیشن کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہوئے ایسے اقدامات کریں گے کہ مستقبل میں کسی کو ہارس ٹریڈنگ کی جرات نہ ہو سکے ،یہ چاہے جتنا بھی پیسہ لگا لیں، ان کا مقابلہ کروں گا۔ 27 مارچ کے جلسے میں قوم تبدیلی کے ساتھ کھڑی نظر آئیگی۔

دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اپنے ٹویٹ میں کہاہے کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ آرٹیکل 63 اے کی تشریح کیلئے سپریم کورٹ میں آرٹیکل 186 کے تحت ریفرنس دائر کیا جائیگا۔ ریفرنس کے ذریعے سپریم کورٹ سے رائے مانگی جائیگی کہ جب ایک پارٹی کے اراکین واضع طور پر ہارس ٹریڈنگ میں ملوث ہوں اور پیسوں کے بدلے وفاداریاں تبدیل کریں تو ان کے ووٹ کی قانونی حیثیت کیا ہے؟ ‏کیا ایسے ممبران جو اپنی وفاداریاں معاشی مفادات کی خاطر تبدیل کریں ان کی نااہلیت تاحیات ہو گی یا انہیں دوبارہ انتخاب لڑنے کی اجازت ہو گی؟ سپریم کورٹ سے درخواست کی جائیگی کہ ریفرنس کو روزانہ کی بنیاد پر سماعت کر کے فیصلہ سنایا جائے۔

Comments are closed.