پی ٹی آئی نیویارک کا عمران خان کے حق میں پاور شو، ہزاروں تارکین وطن شریک

پاکستان میں تحریک انصاف حکومت کی تبدیلی اور شہباز شریف کے وزیراعظم بننے کے خلاف پی ٹی آئی نیویارک کی جانب سے لانگ آئی لینڈ کے علاقے ہِکسول میں احتجاجی ریلی اور مظاہرہ کا انعقاد کیا گیا۔

ریلی کی قیادت تحریک انصاف نیویارک کے سینئر قائدین پرویز ریاض، رضا دستگیر اور دیگر نے کی، احتجاجی ریلی میں پاکستانیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جس میں خواتین، بچے اور بزرگ افراد شامل تھے۔ شرکاء نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر سابق وزیراعظم عمران خان کے حق میں جب کہ نواز شریف، شہباز شریف، آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمان کے خلاف نعرے درج تھے۔

ہِکس ول کی مرکزی شاہراہ ساؤتھ براڈ وے سے شروع ہونے والی تحریک انصاف کی ریلی مسجد فیضان عائشہ کے قریب پہنچ کر مظاہرے میں بدل گئی جہاں پر پی ٹی آئی قائدین نے شرکاء سے مختصر خطابات کیے۔ اس موقع پر پی ٹی آئی نیویارک کے سابق سیکرٹری جنرل رضا دستگیر کا کہنا تھا کہ ہزاروں کی تعداد میں شریک اوورسیز پاکستانیوں نے امپورٹڈ حکومت کو مسترد کر دیا ہے۔

رضا دستگیر کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان عوام کو کہتے تھے کہ گھبرانا نہیں، آج لانگ آئی لینڈ، ہکس ول نیویارک سمیت امریکا اور پوری دنیا میں اوورسیز پاکستانی اپنے قائد کو کہتے ہیں کہ انہیں گھبرانے کی ضرورت نہیں، لاکھوں اوورسیز پاکستانی اور کروڑوں باشعور پاکستانی عوام عمران خان کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو بچانے اور لٹیروں سے آزادی کا واحد حل فوری الیکشنز ہیں۔

اس موقع پر ریلی میں شریک معروف کاروباری شخصیت اور مشہور پاکستانی ریسٹورنٹ کے مالک فیصل اعجاز کا کہنا تھا کہ اس وقت مختلف مقدمات میں نامزد ملزم، چور اور لٹیرے مل کر پاکستان پر قابض ہیں، پہلے 1947 میں ہمارے آباؤ اجداد نے انگریزوں سے آزادی حاصل کی تھی اور آج ہمیں موجودہ حکمرانوں کی شکل میں قومی چوروں سے آزادی کیلئے کوششیں کرنا ہوں گی، ان کا کہنا تھا کہ اس ریلی میں شرکت کا مقصد عمران خان سے اظہار یکجہتی کرنا ہے۔

شرکاء کا کہنا تھا کہ پاکستان اور پاکستانیوں کیلئے واحد امید عمران خان ہیں جو اس ملک کو بچا سکتے ہیں، اس ریلی میں شرکت کا مقصد تمام ہم وطن اوورسیز پاکستانیوں اور دنیا کو یہ پیغام دینا ہے کہ کرپٹ ٹولے کے خلاف جدوجہد میں عمران خان کے شانہ بشانہ ہیں اور انہیں کبھی تنہاء نہیں چھوڑیں گے۔

Comments are closed.