پنجاب میں بلدیاتی اداروں کواختیارات نہ ملے،سردارنسیم نے توہین عدالت کی درخواست دائر کردی

   اسلام آباد:پاکستان مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے میونسپل کارپوریشن راولپنڈی کے میئر سردار محمد نسیم خان نے سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود بلدیاتی اداروں کے منتخب اراکین کو چارج نہ دینے کے خلاف چیف سیکرٹری پنجاب جواد رفیق ملک اور سیکرٹری لوکل گورنمنٹ نور الامین مینگل کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کردی۔

 درخواست گزار سردار محمد نسیم خان نے موقف اختیار کیا ہے کہ 31دسمبر2016کو پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013کے تحت صوبہ پنجاب میں انتخابات منعقد ہوئے تھے ،اور وہ پانچ سالوں کے لئے میونسپل کارپوریشن راولپنڈی کے میئر منتخب ہوئے تھے ،ان کا عرصہ 31 دسمبر2021تک محیط تھا ،تاہم حکومت پنجاب نے 4مئی 2019کو پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2019منظور کرتے ہوئے اس کی دفعہ 3کے تحت صوبہ بھر کے بلدیاتی ادارے تحلیل کردئیے ۔

حکومت کے اس عمل کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا تو فاضل عدالت نے 25مارچ 2021کو پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2019 کی دفعہ 3 کو آئین سے متصادم اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کالعدم قراردے دیا اور اس ایکٹ کے اجراء سے قبل جو مقامی حکومتیں کام کررہی تھی انہیں فوری طور پر بحال کرنے کا حکم جاری کیا کرتے ہوئے انہیں اپنی آئینی مدت31دسمبر2021 پوری کرنے کا حکم جاری کیا تھا ،تاہم چیف سیکرٹری پنجاب جواد رفیق ملک اور سیکرٹری لوکل گورنمنٹ نور الامین مینگل نے باضابطہ طو ر پر عدالتی حکمنامہ وصول ہونے کے باوجود تاحال عدالت کے اس حکم پر عملدرآمد نہیں کیا ہے ،درخواست گزار نے کہا ہے کہ کچھ جگہوں پر منتخب نمائندوں نے اپنے دفاتر میں جاکر چارج لینے کی کوشش کی ہے تو وہاں پر مقرر ایڈمنسٹریٹرز /ڈپٹی کمشنرز او رکمشنرزنے بھی مزاحمت کی ہے ، درخواست گزار نے فاضل عدالت سے آئین و قانون کے تحت فریقین کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کرنے کی استدعا کی ہے۔

وفاقی وزیر فواد چوہدری کے خلاف توہین عدالت کی درخواست سماعت کیلئے مقرر

دوسری جانب سپریم کورٹ نے وفاقی وزیر فواد چوہدری کے خلاف توہین عدالت کی درخواست سماعت کیلئے مقرر کردی۔وفاقی وزیر فواد چوہدری کے خلاف درخواست کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کے ساتھ ہی سماعت کیلئے مقرر کیا گیا ہے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ سرینا عیسی نے فواد چوہدری کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کی تھی۔۔

Comments are closed.