اسلام آباد: سپریم کورٹ میں سیاسی رہنماوں کی تاحیات نااہلی کیس پر سماعت مکمل۔ سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کوشش کریں گے جلد مختصر حکمنامہ سنائیں۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سات رکنی بینچ نے سماعت کی۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ سمیع اللہ بلوچ کیس میں تاحیات نااہلی کا فیصلہ درست نہیں۔ سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی کیس میں آئین کی تشریح غلط کی ہے۔ سمیع اللہ بلوچ کیس میں سول مقدمے میں سزاسنائی گئی۔ میرے خیال میں فوجداری معاملے میں بھی سزا ہوسکتی ہے۔
اسحاق خاکوانی کیس کا حوالہ
اٹارنی جنرل نے اسحاق خاکوانی کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کورٹ آف لاء کیا ہو گی ۔ سمیع اللہ بلوچ کیس نے کورٹ آف لاء کے سوال کا جواب نہیں دیا۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ سمیع اللہ بلوچ کیس میں کیا اسحاق خاکوانی کیس کا حوالہ موجود ہے؟ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ سمیع اللہ بلوچ کیس میں خاکوانی کیس کو ڈسکس نہیں کیا گیا۔
جسٹس جواد ایس خواجہ نے لکھا تھا یہ معاملہ متعلقہ کیس میں دیکھیں گے لیکن نہیں دیکھا گیا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کسی نے یہ نہیں کہا یہ معاملہ فیڈرل شریعت کورٹ کے اختیارمیں ہے۔ اسلامی معاملات پر دائرہ اختیار تو شریعت کورٹ کا ہوتا ہے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہم خود کو آئین کی ایک مخصوص جز تک محدود کیوں کر رہے ہیں۔ آئین پر جنرل ایوب سے لیکر تجاوز کیا گیا لیکن ہم پاکستان کی تاریخ کو بھول نہیں سکتے۔ پورے ملک کو تباہ کرنے والا پانچ سال بعد اہل ہوجاتا ہے جبکہ کاغذات نامزدگی میں غلطی پر تاحیات نااہلی ہے ۔
چیف جسٹس نے کہا کہ نااہلی سے متعلق کیس میں پبلک نوٹس جاری کیا مگر کوئی سیاسی جماعت فریق نہیں بنی ۔ آئین کو اتنا مشکل نہ بنائیں کہ لوگوں کا اعتماد ہی کھو دیں۔ عدالتی معاون مخدوم علی خان نے دلائل میں کہا کہ اگر کوئی قانون چیلنج کرے پھر عدالت دیکھے گی ۔
چیف جسٹس نے کہا کہ پورا پاکستان پانچ سال نا اہلی مدت کے قانون سے خوش ہے اورکسی نے قانون چیلنج نہیں کیا ۔ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ سمیع اللہ بلوچ فیصلے کو ختم کریں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں عدالت تاحیات نااہلی کا فیصلہ واپس لے؟
اس پر مخدوم علی خان نے کہا کہ تاحیات نااہلی کا فیصلہ واپس ہونے تک مدت کم نہیں ہوسکتی۔ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ قانون سازی کے ذریعے ڈیکلریشن کی مدت پانچ سال کی گئی ہے۔ مخدوم علی خان نے کہا کہ نااہلی کی مدت مناسب وقت کیلئے ہونی چاہیے تاحیات نہیں۔
Comments are closed.