سپریم کورٹ نے عملدرآمد کیس میں اصغرخان کے ورثاء کو نوٹس جاری

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے اصغر خان عملدرآمد کیس بند کرنے کی سفارش پر درخواستگزارسابق ایئرمارشل کے ورثاء کو نوٹس جاری کر دیئے۔  عدالت کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے نے سویلین کی حد تک بہت تفتیش کی، اس کے پاس شواہد نہیں،  درخواستگزار اصغر خان کےورثا بتائیں اس معاملے پر مزید کیا کیا جائے؟

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے 1990ء کے انتخابات کے دوران سیاستدانوں میں رقوم تقسیم کے معاملے پر اصغرخان عملدرآمد کیس کی سماعت کی۔ اسد درانی کے وکیل نے موقف اپنایا کہ معاملہ 24 سال پرانا ہے،تمام سیاستدانوں نےرقوم لینے سے انکار کیا، چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ ایف آئی اے نے تو کہہ دیا کہ اس حوالے سے کوئی شہادت ہی نہیں ہے۔ ڈی جی ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ تمام بیانات میں جھول ہیں۔

عدالت نے قرار دیا کہ یہ معاملہ ائرمارشل ریٹائرڈ اصغرخان سے متعلق ہے،معاملہ کافی عرصہ سردخانے میں رہا،سپریم کورٹ نے معاملہ کو دوبارہ اٹھایا۔ایف آئی اے نے سویلین کی حد تک اس کیس میں بہت تفتیش کی۔۔۔جس سے ثابت ہوا کہ پیسہ تقسیم ہوا۔

ایف آئی اے نے حتمی رپورٹ پیش کردی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ اس کے پاس کوئی شہادت نہیں، وفاقی تحقیقاتی ادارے نے کیس ختم کرنے کی سفارش کی ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ یہ معاملہ ائیرخان مارشل اصغر خان کی درخواست پر شروع کیا گیا تھا ان کے قانونی ورثا کو نوٹس جاری کر دیئے ہیں وہ بتائیں کہ اس معاملے پر مزید کیا کیا جائے۔ مقدمے کی مزید سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کردی گئی۔

Comments are closed.