سپریم کورٹ کا بلاول بھٹوزرداری، مراد علی شاہ کے نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے جعلی بینک اکاؤنٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ سے متعلق کیس کی تحقیقات قومی احتساب بیورو کے حوالے کر دیں۔ عدالت نے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹوزرداری اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے نام ایگزیکٹ کنٹرول لسٹ اور جے آئی ٹی رپورٹ سے نکالنے کا حکم دے دیا ہے۔

جعلی بنک اکاؤنٹس کیس کی سماعت چیف جسٹس میاں ثاقب نثارکی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی، اٹارنی جنرل انور منصور نے 172 افراد کے نام ای سی ایل میں ڈالنے سےمتعلق وضاحت پیش کی اور بتایا کہ کابینہ نے معاملہ متعلقہ کمیٹی کو بھجوا دیا ہے، دس جنوری کو اس حوالے سے مزید پیشرفت متوقع ہے۔

جے آئی ٹی کے وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ اومنی گروپ نے جعلی اکاؤنٹ ایمن  سٹی میں ظاہر کیے، دسمبر کے آخر تک عدالت سے جھوٹ بولتے رہے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ اس معاملے میں بلاول بھٹو زرداری کو کیوں ملوث کیا گیا، بلاول بھٹو معصوم ہیں انہوں نے پاکستان آکر کیا کیا؟ بلاول بھٹو زرداری تو صرف اپنی ماں کی میراث لے کر چل رہا ہے، جے آئی ٹی نے ایسا کسی کے کہنے یا بلاول کو بدنام کرنے کیلیےکیا ہے۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ سندھ میں گورنر راج نہیں لگ سکتا، جمہوریت بہت بڑی نعمت ہے، بنیادی حقوق جمہوریت ہی میں محفوظ ہوتے ہیں، لوگ کہتے تھے انتخاب نہیں ہوں گے، میں نے کہا کہ ایک منٹ تاخیر نہیں ہوگی، ہم جمہوریت کو ڈی ریل نہیں ہونے دیں گے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ 172 لوگوں کے نام کابینہ دیکھ رہی ہے، نیب کو بار بار کہہ رہا ہوں کہ لوگوں کی عزت نفس بہت اہم ہے، نیب والے لوگوں کو بلا کر گھنٹوں بٹھا کے رکھتے ہیں، انہوں نے یقین دلایا کہ ایسا نہیں ہوگا۔

سپریم کورٹ نے بلاول بھٹو زرداری، مراد علی شاہ کے نام ای سی ایل اور جعلی بینک اکاؤنٹس کیس سے متعلق جے آئی ٹی رپورٹ نکالنے کا حکم دیتے ہوئے قرار دیا کہ اگر ضرورت ہو تو دونوں رہنماؤں کو الگ سے بلا کر ان کے موقف معلوم کیے جائیں۔ عدالت نے جعلی بینک اکاؤنٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ سے متعلق کیس کی تحقیقات نیب کو بھجواتے ہوئے دو ماہ میں تفتیش مکمل کرنے کا حکم دیا ہے۔

Comments are closed.