اسلام آباد: این اے 75 ڈسکہ انتخابات ، سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کے احکامات یونہی معطل نہیں کرسکتے ،دوبارہ الیکشن تو ہوگا لیکن پورے حلقے میں ہوگا یا چند پولنگ اسٹیشنز پر،فیصلہ عدالت کرے گی۔2018 کے انتخابات مسلح افواج کی وجہ سے پُرامن ہوئے جبکہ ڈسکہ میں الیکشن کمیشن نے پولیس پر انحصار کیا۔
سپریم کورٹ میں الیکشن کمیشن فیصلے کے خلاف تحریک انصاف کی درخواست کی سپریم کورٹ کے جج جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے سماعت کی،جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دئیے کہ آئینی ادارے کا احترام کرتے ہیں، الیکشن کمیشن کے احکامات یونہی معطل نہیں کرسکتے ۔ الیکشن کمیشن کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ امن وامان کے حوالے سے الیکشن کمیشن نے آئی جی پنجاب سے رپورٹ بھی طلب کی تاہم انہوں نے رپورٹ نہیں دی۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ کیا سیکیورٹی ایجنسیوں کا الیکشن کمیشن کے لئے یہ تعاون اور احترام ہے، جواب نہ دینے پر الیکشن کمیشن نے آئی جی پنجاب کو توہین کا نوٹس کیوں نہیں دیا، میری فیملی نے 2018 کے انتخابات میں ووٹ ڈالا اور واپس پر پولنگ کے عمل کی تعریف کی ، یہ انتخابات مسلح افواج کی وجہ سے پُرامن ہوئے جبکہ ڈسکہ میں الیکشن کمیشن نے پولیس پر انحصار کیا،امن و امان برقرار رکھنے کیلئے فوج تعینات نہ کرنا الیکشن کمیشن کی غلطی تھی۔عدالت نے الیکشن کمیشن سے قومی اسمبلی کے ایک حلقے میں آنے والے انتخابی اخراجات کی تفصیل طلب کرتے ہوئے سماعت 19 مارچ تک ملتوی کر دی۔
Comments are closed.