اسلام آباد: سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کیس میں دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔ چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دئیے کہ ریاستی اثاثے کرپشن کی نذر ہوں، اسمگلنگ یا سرمائے کی غیر قانونی منتقلی ہو توکارروائی ہونی چاہیے۔ میری ریٹائرمنٹ قریب ہے،اس سے قبل فیصلہ سنائیں گے ۔جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ کے پاس اگر پارلیمنٹ کی قانون سازی چھیڑنے کا اختیار نہیں تو اس کے ساتھ چلنا ہوگا۔
نیب ترامیم کیخلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت ہوئی ۔، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا ان ترامیم میں کوئی ایسی شق ہے جس کے تحت مقدمات دوسرے فورمز کو بھجوائے جائیں؟؟ وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ نیب کے پاس مقدمات دوسرے اداروں کو بھجوانے کا کوئی قانونی اختیار نہیں ۔اس پرجسٹس منصور شاہ نے ریمارکس دئیے کہ ایسا نہیں ہے کہ نیب سے مقدمات ختم ہو کر ملزمان گھر چلے جائیں، نیب کے دفتر میں قتل ہوگا توکیا معاملہ متعلقہ فورم پرنہیں جائے گا؟
چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ ریاستی اثاثے کرپشن کی نذر ہوں، اسمگلنگ یا سرمائے کی غیر قانونی منتقلی ہو،کارروائی ہونی چاہیے،عوام کو خوشحال اور محفوظ بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ دوران سماعت جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ کے پاس اگر پارلیمنٹ کی قانون سازی چھیڑنے کا اختیار نہیں تو اس کے ساتھ چلنا ہوگا۔جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ پارلیمنٹ کو آئین کے تحت اختیارات حاصل ہیں لیکن ایسا بھی نہیں کہ پارلیمنٹ جو چاہے کرے۔چیف جسٹس نے کہا کہ ماضی سے سبق سیکھتے ہوئے اب سوموٹو نہیں لیتے، اگر پارلیمنٹ کو قوانین پر دوبارہ غور کی درخواست کریں تو اس دوران کیا ہوگا؟ وکلا کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔
Comments are closed.