سپریم کورٹ نے نوازشریف کی درخواست ضمانت پر نیب کو نوٹس جاری کردیا

اسلام آباد: سپریم کورٹ نےنوازشریف کی طبی بنیادوں پر ضمانت کی درخواست کی ابتدائی سماعت کے بعد نیب کو نوٹس جاری کردیا ۔ وکیل خواجہ حارث کے بیرون ملک علاج کے لئے ضمانت کیلئے دلائل ، چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے  پوچھا کہ کیا ایسی مثال موجود ہےکہ ملزم عدالتی دائرہ اختیار اور قانونی حدود سے باہر چلا جائے۔

سپریم کورٹ میں نواز شریف کی طبی بنیادوں پر درخواست ضمانت پر چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔ سابق وزیراعظم کے وکیل نے لندن میں علاج کرانے پر اصرار اور دو اوپن ہارٹ سرجریز، سات اسٹنٹس ڈالے جانے کا حوالہ بھی دیا۔ چیف جسٹس نے جیل میں حالیہ بیماری سے پہلے کی میڈیکل ہسٹری پر سوالات اٹھا دیئے اور کہا کہ غیر ملکی ڈاکٹر ڈیوڈ آر لارنس کی رپورٹس بھی پیش کی جائے۔

نوازشریف کےوکیل خواجہ حارث نےدرخواست ضمانت پر دلائل میں کہا 15 جنوری کو جیل میں ان کے مؤکل کی طبیعت خراب ہوئی ، پی آئی سی کے پروفیسرز،علامہ اقبال میڈیکل کالج کے ڈاکٹرز اور میڈیکل بورڈ نےالگ الگ رپورٹس میں بیماریوں کی تصدیق کی۔ چیف جسٹس نےپوچھا کیا آپ نوازشریف کی 15 جنوری سے پہلے کی رپورٹس دکھا سکتے ہیں، نئی اور پرانی رپورٹس کا جائزہ لے کر دیکھنا چاہتے ہیں کیا نوازشریف کو بلڈ پریشر، گردے میں پتھری، ہیپاٹائٹس، شوگر اور دل کی بیماری پہلے بھی تھی اور کیا جیل میں ان کی حالت بگڑ تو نہیں رہی۔ خواجہ حارث نے کہا تمام میڈیکل رپورٹس میں نواز شریف کو اسپتال منتقل کرنے کی سفارش کی گئی ۔

چیف جسٹس نےریمارکس دیئےرپورٹس میں نوازشریف کےدل کی کوئی شریان بند ہونے کا ذکر نہیں ، سینے میں درد کی شکایت دوا سے دور کی جا سکتی ہے، سب جانتے ہیں کہ نواز شریف کا بیرون ملک علاج ہوتا رہا ، اس صورتحال کے ساتھ انہوں نے الیکشن مہم چلائی اور مقدمات کا سامناکیا ، دیکھنا چاہتے ہیں کیا اس وقت بھی ان کی طبی حالت ایسی تھی۔

خواجہ حارث نے کہا نوازشریف کا بیرون ملک علاج ہوا اور ہمیں اسی پر اعتماد ہے ۔ اس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا نواز شریف کا نام ای سی ایل پر ہےتو ہماری اجازت کےباوجود وہ باہر نہیں جا سکتے۔ عدالت نے نیب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 26 مارچ تک ملتوی کر دی ۔

Comments are closed.