اپوزیشن کو اکثریت کے باوجود شکست،سینیٹ میں اسٹیٹ بینک بل منظور

اسلام آباد: چیئرمین صادق سنجرانی کی زیر صدارت سینیٹ کا اجلاس ہوا۔ وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی شبلی فراز نےنیشنل میٹرولوجی انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان کے قیام کیلئے قانون وضع کرنے کا بل پیش کیا جو متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔

اگلا ایجنڈا اسٹیٹ بنک آف پاکستان ترمیمی بل تھا لیکن اپوزیشن کی اکثریت اور حکومتی اراکین کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے وزیر خزانہ نے بل پیش نہیں کیا جس پر اپوزیشن نے سخت احتجاج کرتے ہوئے بل پیش کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ ووٹنگ میں اسے مسترد کیا جاسکے لیکن حکومت نے بل پیش نہیں کیا۔

اپوزیشن نے چیئرمین سینیٹ سے بل پر کارروائی کا مطالبہ کیا، لیکن چیئرمین نے مطالبہ ماننے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت بل موو نہ کرے تو میں کیا کرسکتا ہوں۔ شیری رحمن نے کہا کہ یہ پول کھل گیا کہ حکومت کو اپنا سب سے اہم بل لاتے ہوئے شکست ہوئی۔عبدالغفور حیدری نے کہا کہ حکومت اعتراف کرے کہ وہ شکست کھا چکی ہے۔

چیئرمین سینیٹ نے اجلاس 30 منٹ کیلئے ملتوی کرکے دوبارہ شروع کیا تو وزیر خزانہ شوکت ترین نے اسٹیٹ بنک ترمیمی بل 2022 پیش کردیا۔ بل پر ووٹنگ کرائی گئی تو بل کے حق میں 43 اور مخالفت میں بھی 43 ووٹ پڑے۔ چیئرمین سینیٹ نے بل کے حق میں ووٹ دیا تو بل کے حق میں 44 ووٹ اور مخالفت میں 43 ووٹ ہوگئے جس کے نتیجے میں صرف ایک ووٹ کی اکثریت سے بل منظور ہوا۔

اپوزیشن نے ایوان میں شور شرابا کیا اور آئی ایم ایف کا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے کےنعرے لگائے۔ انہوں نے بل کی کاپیاں پھاڑ کر پھینک دیں اور ری کاؤنٹ کا مطالبہ کیا۔ لیکن چیئرمین سینیٹ نے اجلاس ملتوی کردیا۔

 سینیٹ جلاس میں اپوزیشن کا کون سا رکن غائب رہا؟

اپوزیشن کو ایوان بالا میں اکثریت کے باجود شکست ہوگئی۔ سینیٹ میں اپوزیشن ارکان کی تعداد 57جبکہ حکومتی ارکان کی تعداد 42 ہے۔ اپوزیشن ارکان میں دلاور خان گروپ کے 6 ممبران شامل ہیں۔

اہم بل کی منظوری میں 12 اراکین غیر حاضررہے،اپوزیشن کے 8 ، حکومت کے 2 اور دلاور خان گروپ کے 2 اراکین اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔ پی پی پی کے یوسف رضا گیلانی،قاسم رانجھو اور سکندر میندرو ، پی کے میپ کے شفیق ترین ، نسیمہ احسان بھی اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔
اپوزیشن سے جے یو آئی ف کے طلحہ محمود ،دلاور خان گروپ کے 6 میں سے2 اراکین ہدایت اللہ اور ہلال الرحمان اجلاس سے غیر حاضر تھے۔ سینیٹر ہدایت اللہ کورونا کے باعث اجلاس میں شریک نہیں ہو سکے ۔ دوسری جانب حکومتی اتحادی ایم کیو ایم کے فیصل سبزواری اور خالدہ اطیب اجلاس سے غیر حاضر تھے۔

Comments are closed.