منی لانڈرنگ کو نیب کے دائرہ اختیار سےنکالا تو احتساب کا ادارہ بے معنی ہوجائیگا، وزیرخارجہ
اپوزیشن کی تجاویز قابل قبول نہیں، احتساب کے وعدے پر اقتدار میں آئےجو پورا کر رہے ہیں، شاہ محمودقریشی
وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ اپوزیشن چاہتی ہے کہ 14 سالہ کرپشن پر احتساب نہ ہو اور منی لانڈرنگ کو نیب قانون کے دائرہ اختیار سے نکال دیا جائے ، حکومت ایسا کرے تو احتساب کا ادارہ بے معنی ہو جائے گا۔
انہوں نے قومی اسمبلی اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ پاکستان سے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ کی تلوار ہٹ جائے، اس لئے چار بلوں پر فوری قانون سازی ضروری ہے۔ ایف اے ٹی ایف کے تین تقاضے شفافیت، احتساب اور عالمی اداروں سے تعاون ہے۔
وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ قانون سازی کے لیے مل بیٹھ کر اپوزیشن کو دعوت دی، انہوں نے نیب قوانین میں 35 ترامیم کی تجاویز دیں، جو وزیراعظم عمران خان کو پیش کی گئیں لیکن اپوزیشن چاہتی ہے کہ منی لانڈرنگ کو نیب قانون کے دائرہ اختیار سے باہر کر دیا جائے اور قومی ادارہ صرف ایک ارب روپے سے زائد کی کرپشن کے خلاف ایکشن لے۔
اپنی بات جاری رکھتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اپوزیشن کی ترامیم کے بعد احتساب کا ادارہ بے معنی ہو جائے گا۔ اپوزیشن کو بتا دیا ہے کہ ان کی تجاویز قابل قبول نہیں ہیں۔ تحریک انصاف احتساب کے وعدے پر اقتدار میں آئی جو پورا کیا جا رہا ہے۔ اپوزیشن کو آگاہ کر دیا ہے کہ وہ جس انداز میں ترامیم چاہتے ہیں، تحریک انصاف کے لیے ممکن نہیں ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ فرض کریں اگر ہم اپوزیشن کی 35 تجاویز پر عمل کر دیتے ہیں تو ہمارا مقصد فوت ہو جائے گا۔ ن لیگ چاہتی ہے کہ نیب قانون میں ترامیم کا اطلاق 16 نومبر 1999ء سے ہو جب کہ 14 سالہ دور کی کرپشن کا احتساب نہ کیا جائے اور چیئرمین نیب کی تعنیاتی کی مدت کم کی جائے۔
Comments are closed.