اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو رہائی کا پروانہ مل گیا

لاہور: ہائی کورٹ نے آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم اوررمضان شوگرملز کیس میں شہبازشریف کی درخواست ضمانت منظور کر لی۔ عدالت کا کہنا ہے نیب اپنا موقف ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔عدالت نے فواد حسن فواد کی آشیانہ کیس میں ضمانت منظور جبکہ ، آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں درخواست ضمانت مسترد کر دی۔ ادھر نیب نے ہائی کورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

لاہور ہائیکورٹ نے اپوزیشن لیڈر کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا ۔۔شہباز شریف نے آشیانہ اوررمضان شوگرملزکیس میں درخواست دائر کی تھی۔

جسٹس ملک شہزاد احمد کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے نیب کے وکیل سے استفسار کیا کہ رمضان شوگر ملز کے چیئرمین حمزہ شہباز تھے تو آپ نے شہباز شریف کو کیوں گرفتار کیا۔۔؟ عدالت نے ریمارکس دیے کہ ۔۔اصل بینفشری کے بجائے اس کے باپ کو گرفتار کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ آپ نے اصل بینفشری کو چھوڑ کر اسکے باپ کو گرفتار کیا۔۔ آپ کے مقاصد کچھ اور ہوں گے۔

عدالت نے قرار دیا کہ اگر رمضان شوگر ملز کیس میں شہباز شریف کی ضمانت مسترد کردیں تو پھر کوئی رکن اسمبلی ترقیاتی کام ہی نہیں کروائے گا۔ نیب وکیل کو باور کرایا گیا کہ عدالت کو حمزہ شہباز سے متعلق نیب نے کہا کہ ان کی گرفتاری کی ضرورت نہیں۔

حمزہ شہباز تفتیش میں تعاون کررہا ہے اس لیے گرفتار نہیں کیا۔

جسٹس ملک شہزاد احمد نے استفسار کیا ۔۔۔ کیا آپ نے اس کے ابھی تک وارنٹ گرفتاری جاری کئے ہیں؟ ہم نے دیکھنا ہے یہ تمام تحقیقات کن پیرا میٹرز پر ہو رہی ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ نیب اپنا موقف ثابت کرنے میں ناکام رہا۔

دو رکنی بینچ نے آشیانہ اوررمضان شوگرملزکیس میں شہبازشریف کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا۔

عدالت نے فواد حسن فواد کی آشیانہ کیس میں ضمانت منظور کر لی جبکہ آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں درخواست ضمانت مسترد کر دی گئی ہے۔

فیصلے کے بعد شہباز شریف کا کہنا تھا کہ سچ کی ایک بار پھر جیت ہوئی، عدالتوں کے سامنے پیش ہوئے اور ہوتے رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک پائی کی کرپشن ثابت ہو جائے تو سیاست سے کنارہ کشی کر لوں گا۔ اللہ کا شکر ہے کہ سچ سامنے آیا ۔

ادھر نیب نے ہائی کورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ نیب ذرائع کا کہنا ہے ہائی کورٹ کا فیصلہ ملتے ہی سپریم کورٹ میں اپیل کی جائیگی۔

Comments are closed.