اسلام آباد: اپوزیشن لیڈر شہبازشریف نے نیب ریمانڈ کو ڈریکونئین قانون قرار دے دیا۔کہتے ہیں ایسا قانون ختم ہوناچاہیے۔سعد رفیق کا کہنا ہے کہ لگتا نہیں ریورس گیئرلگ سکے گا۔آصف علی زرداری سے ہاتھ ملاسکتے ہیں۔کمیٹی اجلاس میں دونوں سرگوشیاں بھی کرتے رہے۔
پارلیمنٹ ہائوس میڈیا سے گفتگو میں اپوزیشن لیڈر شہبازشریف نے نیب کے ریمانڈ سے متعلق قانون کی مخالفت کردی۔۔چوہدری نثار علی خان کے فارورڈ بلاک بنانے سے متعلق سوال پر چپ رہے۔
ان کا کہنا تھا کہ قتل کیس میں اگر ریمانڈ 14دن کا ہوسکتا ہے تو نیب کیس میں کیوں نہیں۔90 روزکا ریمانڈ نہیں ہونا چاہیے۔ یہ ایک ڈریکونئین لا ہے۔ جسے تبدیل ہونا چاہیے۔ اس حوالے سے قانون سازی سے متعلق پارلیمنٹ میں بات کریں گے۔
خواجہ سعد رفیق نے آصف علی زرداری سے ہاتھ ملانے کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ صدارتی نظام لانا آسان نہیں۔ پاکستان میں لوگ جمہوریت کے شیدائی ہیں۔ان کا خیال نہیں کہ جمہوریت کو ریورس گیئر لگے گا۔ فوجی عدالتوں پر حالات دیکھ کر فیصلہ کیا جائے گا۔
سعد رفیق نے کہا کہ آصف علی زرداری سے ہاتھ ملا سکتے ہیں۔حکومت گرانے کے لئے نہیں بلکہ قانون سازی کے لئے اپوزیشن متحد ہو۔ فوجی عدالتوں کا سوال سامنے آئے گا تو مشورہ کرکے جواب دیں گے۔
سعد رفیق نے نیب کے سلوک کی تعریف بھی کی اور کہا کہ نیب قانون میں تبدیلی نہ کرکے ہم نے غلطی کی جو دور ہوجانی چاہیے۔کمرہ میرا بھی دس ضرب بارہ ہی کا ہے مگر مجھ سے سلوک اچھا ہے تو اچھا ہی کہوں گا۔
Comments are closed.