حالات خراب اور عوام مہنگائی سے پریشان ہیں، ڈالر کہاں جا رہا ہے، چیف جسٹس

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے نیب کو ایم ڈی پی ایس او کی تنخواہ اورمراعات کی تحقیقات کر کے چار ہفتوں میں رپورٹ پیش کرنے کاحکم دیا ہے۔ جبکہ ایل این جی درآمد کے معاملے پر اٹارنی جنرل کو ان کیمرہ بریفنگ دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔ چیف جسٹس کہتے ہیں کس قانون کے تحت ایم ڈی کو 37 لاکھ روپے تنخواہ دی جا رہی ہے، آج کل حالات بہت خراب ہیں،لوگ مہنگائی سے پریشان ہیں،ڈالردیکھیں کہاں جا رہا ہے۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے پٹرول،گیس کی قیمتوں میں اضافے اورایم ڈی پی ایس او تقرری سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ایم ڈی پی ایس او کس مد میں 37 لاکھ روپے تنخواہ لے رہے تھے؟ سہولیات ملا کے ایم ڈی پی ایس او حکومت کو 50 لاکھ میں پڑتے رہے۔

پی ایس اوکے وکیل نے بتایا کہ ایم ڈی کی تقرری وفاقی حکومت کرتی ہے،پی ایس او بورڈ کا کوئی کنٹرول نہیں، عمران الحق کی تقرری باضابطہ ہوئی، تنخواہ مارکیٹ ریٹ کے مطابق ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کوئی اور بندہ پاکستان میں اتنی تنخواہ نہیں لے رہا ہوگا، حکومت بتائے کس قانون کے تحت اتنی تنخواہ اور مراعات دی جا رہی ہیں۔۔۔۔ نیب ایم ڈی پی ایس او کی تنخواہ اور مراعات کی تحقیقات کرے۔۔

ان کا کہنا تھا کہ آج کل حالات بہت خراب ہیں، لوگ مہنگائی سے پریشان ہیں، ڈالر دیکھیں کہاں جا رہا ہے۔ پی ایس او کے وکیل نے کہا کہ ایل این جی،پیڑول کی قیمتیں زیادہ کنٹرول نہیں کی جا سکتیں، عدالتی حکم پر جس نجی کمپنی کی خدمات لی گئیں اس نے قیمتوں میں کمی تجویز کی، اپنی رپورٹ کے بدلے 43 لاکھ روپے فیس کا مطالبہ کر رہی ہے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے عدالت پیسے نہیں بانٹ رہی، اسے 15 لاکھ روپے دیئے جائیں۔

اٹارنی جنرل نے استدعا کی کہ ایل این جی درآمد حساس نوعیت کا معاملہ ہے، ان کیمرہ بریفنگ کی اجازت دی جائے،جسے عدالت نے منظورکرلیا،، مقدمے کی مزید سماعت چار روز بعد ہوگی۔

Comments are closed.